عاشورہ 10محرم کا روزہ رکھنا تو یہودیوں کی علامت ہے

بعض حدیث میں مکہ کی زندگی کے اندر آپ کو ملتی ہیں۔ بعض حدیث مدینہ کی زندگی میں ملتی ہیں۔ جو طلباء ہوتے ہیں۔

وہ بخاری پڑھتے ہیں۔ مسلم پڑھتے ہیں۔ اور دیگر حدیث کی کتب پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دیکھیں کہ حضوراکرمﷺ نے بیٹھ کر پانی کی تلقین کی۔ کھڑے ہو کر پانی کو برا جانا۔ اول تو پانی کے بارے میں یہی حکم تھا۔ جب آپﷺ مدینہ میں آئے۔ انہوں نے یہودیوں کو ایک خاص انداز میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھا۔ تو رسول اللہﷺ نے ان دو امور کے اندر بھی یہودیوں کی مخالفت کی۔ پہلا: یہودی جب کھانا کھانے لگتے ہیں تو خاموش ہوجاتے تھے۔

بعض حدیث میں مکہ کی زندگی کے اندر آپ کو ملتی ہیں۔ بعض حدیث مدینہ کی زندگی میں ملتی ہیں۔ جو طلباء ہوتے ہیں۔ وہ بخاری پڑھتے ہیں۔ مسلم پڑھتے ہیں۔ اور دیگر حدیث کی کتب پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دیکھیں کہ حضوراکرمﷺ نے بیٹھ کر پانی کی تلقین کی۔ کھڑے ہو کر پانی کو برا جانا۔ اول تو پانی کے بارے میں یہی حکم تھا۔ جب آپﷺ مدینہ میں آئے۔ انہوں نے یہودیوں کو ایک خاص انداز میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے دیکھا۔ تو رسول اللہﷺ نے ان دو امور کے اندر بھی یہودیوں کی مخالفت کی۔ پہلا: یہودی جب کھانا کھانے لگتے ہیں تو خاموش ہوجاتے تھے۔

خاموشی سے کھالو۔ بالکل ہمارا کلچر نہیں ہے۔ دوسری بات حضوراکرم ﷺنے اول اول پانی کو ، کھانے کو کھڑا ہونے سے منع کیا۔ تاکہ مشرکین کی مخالفت ہوجائے۔لیکن یہاں پر آکر جب یہودیوں کی مخالفت ، عیسائیوں اور اہل کتاب کی مخالفت مقصود تھی ۔ تو پھر ہر چیز کی اجازت دے دی۔ اسی لیے صحابہ نے کہہ دیا۔ ہم مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں چلتے بھی تھے۔ پھرتے بھی تھے۔ کھانا بھی کھاتے تھے ۔ پانی بھی پیتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اور پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑا اور پینا شرو ع کردیا۔ لوگوں کو کہا میں اس لیے یہاں کھڑے ہو کر پانی پی رہا ہوں۔

کہیں تو یہ نہ سمجھ لو کہ کھڑے ہو کر پانی پینا منع کردیا گیا۔ مسلمانوں کے اوپر ۔ گویا حدیث شروع دور کی ہیں۔ جن کو بعد میں حضوراکرم ﷺ نے وسعت دے کر اجازت دیدی گئی ہے کیوں ؟ تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہوجائے۔ اور مخالفت رسول اکرم ﷺ نےآپ کو کہہ دیا۔ دنیا کے امور میں بھی کی اور دین کے امور میں بھی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی آخری زندگی میں کیا لفظ کہا تھا؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ کہا تھا کہ میں عاشورہ کا روزہ رکھتا ہوں۔ لیکن اگر میں زندہ رہوں گا۔ تو میں یہودیوں کی اس میں بھی مخالفت کروں گا۔ اور میں دسواں کا روزہ رکھوں گا۔ یعنی 9محرم کا روزہ رکھوں گا۔ یہودی 10 محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے کیونکہ قوم موسی ؑ کو اس دس تاریخ کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہو دیوں کی یہاں تک مخالفت کی ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.