محرم میں صرف ایک قرآنی لفظ

“الصمد” وہ ذات جس کی طرف تمام بندے اپنی ضرورتوں ، پریشانیوں اور برے حالات کے وقت اس سے لو لگاتے ہیں ۔

کیونکہ وہ اپنے ذات و صفات او راسمائے قول میں مطلق ومکمل کمال رکھنے والی ذات ہے۔ وہ ذات بے نیاز ہے۔ ہرایک اس کا محتاج ہے ۔ اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ جو کہ کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی کھانےکو نہیں دیتا۔ ” الصمد” ضرورتوں کے وقت دل اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تو وہ انہیں منع نہیں کرتا۔ بلکہ اپنی عطاؤں سے نوازتا ہے پریشانی کے وقت دل اس کو پکارتے ہیں۔ تو وہ ان کی دعائیں قبول کرتے ہوئے ان کی پریشانیاں دور کرتا ہے اس سے رشتہ نہ رکھنے والے اس کو پکارتے ہیں۔ تو وہ ان کو اپنےسے قریب کرلیتا ہے۔ ڈرے ہوئے لوگ اس کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں تو و ہ انہیں درد سے نجات دلاتا ہے۔ توحید پرست اس سے امیدیں لگا بیٹھتے ہیں ۔ تو وہ انہیں ان کی مرادوں تک پہنچا دیتا ہے۔ مصیبتوں میں گھرے لوگ اس کو بلاتے ہیں۔ تو وہ انہیں سلامتی سے نوازتا ہے۔ اور بندے اس کے سامنے عاجزی سے جھکتےہیں۔ تو وہ انہیں سر بلندی عطا کرتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ صمد ہیں۔

” الصمد” کا ماہ رمضان میں پڑھنے کی اتنی فضیلت ہے کہ آپ کو بتا نہیں سکتے۔ اگر آپ ” الصمد “کو ماہ محرام میں صرف دس مرتبہ پڑھتے ہیں ۔ یاپھر چاولوں پرپڑھ کر ا س کو کسی نہر دریائی یا قبرستان میں پھینک دیتے ہیں ۔ اس سے آپ کو کیا حاصل ہوگا ۔ یہ سب کچھ آپ کو بتائیں گے۔ ویسے تو پورا سال اس عمل کوکرسکتے ہیں۔ لیکن محرم سے اس کی ابتداء کی جائے۔ تو اس کی قبولیت اورتاثیر بڑھ جاتی ہے۔ عمل یہ ہے کہ ایک کلو گندم یا چاول لےلیں۔ کسی چھوٹے بچے سے ان چاولوں یا گند م کی مٹھی بھروا لیں۔ اور علیحدہ کسی برتن میں رکھ لیں۔ بچے معصوم مٹھی سے تاثیر بڑھ جاتی ہے یہ وہ ہاتھ ہیں جو کبھی نافرمانی کے لیے نہیں بنے۔ اب اس ایک مٹھی چاول یا گندم کے ہر دانے پر لاجائے قلبی ، درد وسوس کے ساتھ ” الصمد” پڑھیں۔ ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے۔ گھر کے افراد مل کر بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ پڑھنےکے بعد ان چاولوں یا گندم کو باقی ایک کلو میں مکس کرلیں۔ اور باقی اور صاف پانی جہاں مچھلیاں ہوں۔ وہاں ڈال دیں۔ ڈالنا صرف صاف پانی میں ہے۔ جیسا کہ تالاب، نہر، سمند ر، دریا وغیرہ ۔

یہ عمل ستر ، چالیس یا نوے دن کرنا ہے۔ یعنی ہر روز ایک کلو چاول یا گندم کی ایک مٹھی پر پڑھ کر چاولوںمیں مکس کرکے پانی میں مچھلیوں کو ڈال دیں۔ یہ عمل ہرممکن کام کےلیے بہترین ہے۔ اولا د نہ ہوتی ہو ۔ بیٹا یا بیٹی چاہتے ہو۔ قید سے خلاصی ، اب وہ گن اہوں کی قید سے خلاصی یا بد عادات کی قید سے ہو۔ جیل کی قید ، کسی عیب سے چھٹکارا چاہتےہیں تقوی ٰ چاہتےہیں۔ مدینے والے آقا کا عشق چاہتے ہیں۔ نشہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ تنگدستیوں اور غربت سے نجات چاہتے ہیں۔ شادی نہ ہوتی ہو۔ غرض دنیا کا کوئی بھی ناممکن مسئلہ ہو۔ یہ عمل بہت پر تاثیر ہے۔ اپنے لیے اور کسی اور کےلیے بھی کرسکتے ہیں۔ اس عمل کا آخری راز یہ ہے کہ اس عمل دعا آخر میں نہیں کرنی بلکہ درمیان میں کرنی ہے۔ یعنی اس پورے عمل کو خود دعا بنالیں۔ پھر رب کے کرم اور فیض کو متوجہ ہوتا دیکھیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.