محرم کے پانچ اہم واقعات نواسہ رسول ﷺ اور پورے خاندان کی شہادت

محرم میں اللہ نے آدم ؑ کی ت وبہ کو قبول کیا۔ محرم اماں ابا کی ملاقات ہوئی

۔ دس محرم میدان عرفات میں۔ دوسرا بڑا واقعہ دس محرم حضرت نوح ؑ کی کشتی جو دی پہاڑ پر جا کر ٹکی اوراس کے بعد تیسرا بڑا واقعہ دس محرم حضرت موسی ؑ نے سمندر پار کیا اور فرعون ڈوبا۔ چوتھا بڑا واقعہ دس محرم حضرت یونس ؑ مچھلی کےپیٹ سے باہر نکالے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ یہ ایک پوری فہرست ہے۔آپ کو تین چار بتا دی ہیں۔ پھر ان سب پر چھاگیا۔ ان سب پر چھاگیا۔ میرے نبی کے نواسے اور پورے خاندان کی شہادت۔ سیدنا حضرت حسین بن علیؓ انتہائی عبادت گزار تھے،

نماز، روزے اور حج کا بڑااہتمام فرماتے، آپؓ نے متعدد حج پیدل ادا فرمائے، انتہائی متواضع تھے۔ ایک مرتبہ گھوڑے پر سوار گزر رہے تھے کہ غرباء کی ایک جماعت نظر آئی، جو زمین پر بیٹھی روٹی کے ٹکڑے کھا رہی تھی، آپؓ نے انہیں سلام کیا، ان لوگوں نے کہا ’’فرزندِ رسول ﷺ، ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے۔‘‘ آپؓ گھوڑے سے اتر کر ان کے ساتھ بیٹھ گئے، کھانے میں شریک ہوئے،پھر انہیں دعوت دی اور اپنے گھر لے جاکر سب کو کھانا کھلایا۔رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ آپ ﷺ حضرات حسنین کریمینؓ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:’’حسنؓ اور حسینؓ دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔‘‘حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں،

رسول اکرم ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ﷺ ایک کندھے پر حضرت حسنؓ اور دوسرے کندھے پر حضرت حسینؓ کو اٹھائے ہوئے تھے،یہاں تک کہ ہمارے قریب تشریف لائے اور فرمایا ’’جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی۔‘‘حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی روایت کے مطابق ایک رات وہ سرور کائناتﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے‘آپﷺ باہر تشریف لائے تو کچھ اٹھائے ہوئے تھے،جسے وہ نہیں جان سکے۔دریافت کیا’’آپ ﷺ کیا اٹھائے ہوئے ہیں؟‘‘ آپ ﷺ نے چادر مبارک اٹھائی تو انہوں نے دیکھا کہ آپﷺ کے دونوں پہلوئوں میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ ہیں۔آپﷺ نے فرمایا ’’یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں۔‘‘ اور فرمایا ’’اے اللہ، میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں،

تُو بھی انہیں محبوب رکھ اور جو ان سے محبت کرتا ہے،انہیں بھی محبوب رکھ۔‘‘سیدہ فاطمہ زہراءؓ فرماتی ہیں کہ میں حسنؓ اور حسینؓ کو لے کر حضور پُرنورﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’حضورﷺ! یہ دونوں آپﷺ کے نواسے ہیں،انہیں کچھ عطا فرمائیے۔‘‘ تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’حسنؓ کے لیے میری ہیبت و سیادت ہے اور حسینؓ کے لیے میری جرأت و سخاوت ہے۔‘‘ نبی آخر الزماںﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے، یا اللہ جو حسینؓ کو محبوب رکھے، تُو اسے محبوب رکھ۔‘‘ اور آپﷺ کا یہ فرمانِ مبارک ’’جویہ چاہے کہ نوجوانانِ جنت کے سردار کو دیکھے، وہ حسین بن علیؓ کو دیکھ لے۔‘‘

Sharing is caring!

Comments are closed.