”منرل واٹر والے لوگوں کی جانوں کےساتھ کھیل رہے ہیں“

گزشتہ کچھ سالوں سے بوتلوں کے پانی کے کلچر نے ہمیں لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ہر کوئی یہ تصور کرتا ہے

کہ یہ پانی صاف ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کی تمام ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے اور جراثیم سے پاک ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی جوالوں سے یہ پانی صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اس کی کوالٹی جانچی ہوئی ہوتی ہے اس سے پانی کے ضیاع میں بھی کمی آتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی بہتر ہوتا ہے- مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ ایسے نقصانات بھی ہوتے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے- آج ہم آپ کو منرل یا فلٹر پانی کے ایسے ہی کچھ نقصانات سے آگاہ کریں گے- بوتل میں مہیا کیا جانے والا پانی نلکے کے پانی کے مقابلے میں کئی گنا مہنگا ہوتا ہے اور اگر ڈس پوزيبل بوتل میں لیا جائے تو اس پانی کے ساتھ ساتھ بوتل کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے جو کہ ایک بے مقصد خرچ ہوتا ہے- آر او پلانٹ کے پانی کو چیک کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ پانی نلکے کے پانی کے مقابلے میں زیادہ صاف ہوتا ہے- مگر ان کو انیس لیٹر کی جن بوتلوں میں بار بار بھرا جاتا ہے وہ بوتلیں استعمال کے سبب ایک وقت کے بعد صحت کے لیے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہو جاتی ہیں- اور ان بوتلوں کے اندر کے مضر صحت اجزا بھی پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بعض بوتلوں میں مستقل نمی کے سبب الجی اور فنجائی بھی پیدا ہو جاتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے- جیسا کہ عام طور پر گلی محلوں میں آر او پلانٹ لگائے جا چکے ہیں جو کہ بورنگ کے پانی کو منرل واٹر بنا کر بیچ رہے ہیں- وہ اس پانی میں مختلف قسم کے معدنیات وغیرہ بھی شامل کرتے ہیں مگر اس پانی کی جانچ کا بہتر نظام نہ ہونے کے سبب یہی پانی ہمارے لیے بڑی بیماریوں جیسے کہ گردے کی پتھری وغیرہ کا سبب بھی بن سکتا ہے- چونکہ یہ پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں فراہم کیا جاتا ہے اور سستی کمپنیاں ڈسپوزیبل بوتلوں کے لیے جس پلاسٹک کا استعمال کرتی ہیں وہ حد درجے ناقص ہوتی ہے جو کہ دھوپ میں رکھے ہونے کے سبب پگھلنے لگتی ہیں- اور ان پلاسٹک کے زہریلے مادے پانی میں شامل ہو جاتے ہیں جن کے سبب کینسر جیسے موذی مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے- بوتل والے پانی میں فلورائیڈ موجود نہیں ہوتا ہے جو کہ بچوں کی ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے- اس کی کمی کے سبب بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور دانتوں کی خرابی کا مرض بھی سامنے آتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.