”نبی کریم ﷺ کی پسند یدہ غذا کدو“

اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت کدو ہے۔ کدو ایک بہترین اورغذائیت سے بھر پور سبزی ہے

گرمی ہو یا سردی کدو اور لوکی ہماری صحت کےلیے مفید کھانے ہیں۔ یہ موسم گرما کاخاص تحفہ ہے۔ کدو ایک مسکن اور سرد مزاج او ر دافع صفراء اور پیشاب آور غذائی اور دوائی اثرات رکھنے والی سبزی ہے۔ سبزی تو سبزی اس کے بیج اور چھلکے بھی انسانی صحت کےلیے مفید ہیں۔

کدو دنیا کی قدیم ترین سبزیوں میں سے ایک ہے۔ کد و کی تاریخ کا پتہ پچپن سو قبل مسیح پہلے کا ہے۔ کدو کو شروع میں عرب ، ایران اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ یورپ میں کدو کی کاشت پندرہ سو چھتیس عیسویں میں کی گئی ہے۔ سبزی کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کو ساری دنیا میں ہی کاشت کیا جانےلگا۔ قرآن مجید حضرت یونس ؑ کے ذکر میں لکھا ہوا ہے

کہ جب آپ ؑ مچھلی کےپیٹ سے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آپ بیل دار پودے ، روایات کے مطابق کدو کا سایہ کردیا۔ اور آپ کے جسم کو کدو کی بیل اور پتوں نے ڈھانپ لیا۔ کیونکہ سیدنا حضرت یونس ؑ کا جسم اطہر اس وقت انتہائی نازک حالت میں تھا۔ اور ماہرین کہتے ہیں کہ کدو پر حشرات اور مکھیاں نہیں آتیں۔ کدو نبی کریمﷺ کی پسند ید ہ سبزی تھی ۔ آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک درزی نبی کریم ﷺ کو کھانے کی دعوت دی۔ جو اس نے آپﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں آپ ﷺ کے ساتھ اس کھانے کی دعوت پر گیا۔ اس درزی نے نبی کریمﷺ کےپاس روٹی اور شوربہ جس میں کدو تھا۔ اور بھونا ہوا گ وشت لا کر رکھ دیا۔ میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپ پیالے کے چاروں طرف سے کدو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے تھے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں اسی دن سے برابرکدو پسند کرنے لگا۔ ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کدو کے موسم میں کدو کی ترکاری کھانے میں بے حدپسند فرماتے تھے۔ ایک موقع پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! جب تم ہانڈی پکاؤ اس میں کدو کثرت سے ڈالا کرو۔

کیونکہ یہ پریشان دل ، ڈپریشن کو سکون ملتا ہے۔چوتھی صدی ہجری کے ماہرین جن میں بوعلی سینا ، موسی بن خالد اور حسین بن اسحاق کا نام سر فہرست ہے۔ ا ن ماہرین کا کدو کی افادیت کے بارے میں کہنا ہے کہ ہم حیران ہیں۔ کہ اس سبزی کے کتنے فائدے ہیں ۔ اس سے کئی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ کدو کا سالن بہت سی بیماریوں میں قوت بخش ثابت ہوتا ہے

مثال کے طور پر اعصابی بیماریوں کے شکار افراد کے لیے نادر شے ہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر اسے معدے کے امراض کے لیے خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کدو کا جوس کا پینے سے نہ صرف پیشاب کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔ بلکہ یہ آنتوں اور معدے سے تیزابیت ااور انفیکشن بھی ختم کرتا ہے۔ اس کا جوس حاصل کرنےکےلیے ایک پودے کو کدو کش کرنے کے بعد نچوڑ لیا جائے

تو خاصی مقدار میں جوس حاصل ہوجاتا ہے۔ کدو کا جوس پینےسےنہ صر ف پیشاب کی جلن ختم ہوجاتی ہے۔ بلکہ یہ اللہ کے حکم سے آنتوں اورمعدے سے تیزابیت اور انفیکشن بھی ختم کردیتا ہے۔ ایک عدد کدو کو گرم کوئلوں میں دباکر بھرتا بنالیں۔ا وراس کاپانی نچوڑ لیں۔ اس پانی میں تھوڑی سی مصری ملا کر پینےسے دل کی گرمی اور یرقان سے نجات ملتی ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.