”واقعہ کربلا کے متعلق غلط نظریات“

حق و باطل میں معرکہ آرائی اس وقت سے ہو رہی ہے

جب سے انسان کا وجود قائم ہوا ہے۔ آدم ؑ و شیطان کی یہ جنگ ازل سے جاری ہے اور رہتی دنیا تک جاری رہے گی۔ واقعہ کربلا بھی انسانیت اور شیطانیت کے درمیان ہونے والا ایک ایسا معرکہ ہے جو رہتی دنیا تک تمام طالبانِ مولیٰ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اس سے پہلے کفار اور مسلمانوں کے درمیان معرکے ہوا کرتے تھے۔ واقعہ کربلا کا سب سے کرب ناک پہلو یہ ہے کہ نواسۂ رسول کو رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اُمتیوں نے بے دردی سے شہید کیا۔ وہ نواسۂ رسول جنہوں نے ہادیٔ برحق کی گود میں پرورش پائی ہو جن کی پہلی خوراک حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا لعابِ دہن ہو وہ لعابِ دہن جس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے اور خیرو برکت کے لیے اپنے چہروں اور اجسام پر ملتے تھے۔ اسی پہلو کے متعلق علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ
کٹا حسینؓ کا سر نعرہ تکبیر کے ساتھ

واقعہ کربلا کے بعد امانت و خیانت، وفا و جفا، ہار اور جیت، حق اور باطل، خیر اور شر کے اصل مفہوم سے دوعالم روشناس ہوئے اور حضرت امام حسینؓ نے اپنے کردار اور عمل سے ہمت و جرأت، استقامت اور ایثار و قربانی کی داستان رقم کی جبکہ یزیدیوں نے عملاً بتا دیا کہ جب دنیا کی محبت دل کو سیاہ کر دیتی ہے تو انسان میں انسانیت کے تمام اوصاف دم توڑ جاتے ہیں پھر نہ محسنوں کا احسان یاد رہتا ہے اور نہ اللہ کا پیغام۔ نظر ٹک جاتی ہے تو صرف محدود فانی مفادات پر۔ یزید کے پاس فوج، قوت اور دولت تھی جس کی بدولت اس نے ڈرا دھمکا کر اور مال و دولت کے ذریعے انسان نما درندوں کو خریدا۔ حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کی کُل متاع عشقِ حقیقی تھا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

عاشق سوئی حقیقی جیہڑا، قتل معشوق دے منّے ھُو
عشق نہ چھوڑے مُکھ نہ موڑے، توڑے سَے تلواراں کَھنّے ھُو
جِت ول ویکھے راز ماہی دے، لگے اوسے بنّھے ھُو
جِت ول ویکھے راز ماہی دے، لگے اوسے بنّھے ھُو

ہر دور میں زمانہ اس حقیقت پر مہرثبت کرتا ہے کہ دنیا کے طالب ہمیشہ ملعون ہوتے ہیں۔یزید اور اس کے ساتھی تمام مال و متاع ، وسائل، ظلم اور جبر کے باوجودہمیشہ کی ذلت کے ساتھ دفن ہیں جبکہ حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے اصحاب کے مزارات پر عقیدت مندوں کا ہجوم آپؓ کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ طالبانِ مولیٰ کے لیے کربلا منشور ہے اور حضرت امام حسینؓہیرو اور رہبر۔
بہت سے کور چشم، بے بصیرت اور بد باطن حضرات کربلا کی اصل روح کو سمجھنے کی بجائے اپنی علمی قابلیت کے زعم میں حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے برگزیدہ و اعلیٰ اوصاف اور کردار کے حامل اصحابؓپر بہت سے اعتراضات کی بوچھاڑکرتے رہتے ہیں اور یزیدکو جنتی اور ہر گناہ سے مبرا ثابت کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔واقعہ کربلا کی اہمیت کو کم کر کے دکھانے اور یزید کے کردار کو بلند و بالا ثابت کرنے کا واضح مطلب یہ ہے کہ نعوذ باللہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جن کو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے مامور فرمایا تھااور دعوت کا سلسلہ اپنے خاندان سے شروع فرمایا تھا،انہوں نے اپنے گھرانے کی ہدایت و تربیت کو فراموش کردیا ہوگا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گھرانے کے افراد خدانخواستہ حُبِّ جاہ کا شکار تھے۔ ان کے خیال میں کربلا حق و باطل کے درمیان معرکہ نہیں تھا بلکہ دوشہزادوں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے لڑی گئی ایک جنگ تھی اور کچھ نادان تو یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کا خروج حاکمِ وقت کے خلاف اقدامِ بغاوت تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ قرآن اور حدیث کی رو سے آپؓ پر یزید کی اطاعت واجب تھی اور دلیل کے لیے سورۃ النساء کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی اْلَامْرِ مِنْکُمْترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے (اہلِ حق ) صاحبانِ امر کی۔‘‘

اور درج ذیل فرمانِ مصطفی ؐ پیش کرتے ہیں:
’’اگر کٹی ہوئی ناک والا حبشی تمہارا امیر ہو اور تم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔‘‘ دلائل دیتے وقت یہ لوگ اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یزید کی شخصیت و کردار کسی زاویے سے بھی ان فرامین کے دائرے میں نہیں آتا۔ اور نہ ہی وہ ایسا صاحبِ امر تھا جس کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت سے مطابقت رکھتی اور نہ ہی ایسا امیر جو مومنین کو اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلتا۔ کربلا در حقیقت دین کی بقا کا نام ہے۔ جس نے بھی کربلا کو دو شہزادوں کی جنگ کہا یا سمجھا وہ انسانیت اور اخلاقی اقدار سے بہت دور ہے۔ایک طرف جنت کے نوجوانوں کے سردار حضرت امام حسینؓ ہیں اور دوسری جانب ہر طرح کی اخلاقی بُرائی میں مبتلا اور دین و انسانیت کی حدود کو پامال کرنے والا شخص یزید ملعون ہے۔ علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں:

موسیٰؑ و فرعون و شبیرؓ و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

ترجمہ: موسیٰ ؑ اور فرعون، حسینؓ اور یزید دو متضاد قوتیں ہیں جوجب سے زندگی کا آغاز ہوا ہے ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ موسیٰؑ اور حسینؓ حق کے نمائندے ہیں اور فرعون اور یزید باطل کے پیروکار ہیں۔
اگر حضرت امام حسینؓ کو حکومت چاہیے ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ آپؓ صرف 72نفوس پر مشتمل قافلہ لے کر چلتے جس میں بچے ، بوڑھے، خواتین اور بیمار بھی شامل تھے۔ جنگی حکمت کا تقاضاتو یہ ہوتا ہے کہ آپؓ ایک کثیر مسلح لشکر کے ساتھ روانہ ہوتے۔

بالفرض اہلِ کوفہ کے خطوط اور ساتھ دینے کے وعدہ پر اگر آپؓ ایک چھوٹے سے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے ہوتے تو اہلِ کوفہ کی دغا بازی دیکھ کر آپؓ بھی کوئی سیاسی داؤ استعمال کرتے۔ یزید سے کوئی معاملہ طے کر لیتے یا وقتی بیعت کرکے بعد میں اپنی بات سے پلٹ جاتے لیکن آپؓ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا کیونکہ آپؓ حکومت حاصل کرنے کے لیے گھر بار، دنیا کی راحت اور آرام چھوڑ کر نہیں چلے تھے بلکہ آپؓ کو تو اپنے ناناجان کے لگائے ہوئے پودے کو اپنے خون سے سینچنا تھا۔ صداقت شعاری واسلام پرستی کے جھنڈے دنیا میں گاڑنے تھے۔ حق و باطل میں تمیز کا اعلان کرنا تھا اور اس عہد کو نبھانا مقصود تھا جو آپؓ روزِ ازل کرکے آئے تھے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ آپؓ اپنی جان کے خوف سے اپنی خاندانی صداقت و حق گوئی پر پانی پھیر دیتے، دین کو دنیا کے ہاتھوں فروخت کر ڈالتے اور چار دن کی دنیاوی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے دائمی مسرت و حقیقی زندگی کو ٹھوکر مار دیتے۔ آپؓ اس نبیٔ رحمت کے نواسے ہیں جنہوں نے کبھی صداقت پر کذب بیانی کو ترجیح نہ دی‘ جنہوں نے اہلِ قریش کے عہداستبداد میں ہمیشہ حریت کو اپنا شعار رکھا۔ نہایت جرأت سے تبلیغِ اسلام پر کمر بستہ رہے اور اپنے خاندان کے بزرگوں کے سامنے بھی ہمیشہ اعلانِ حق کرنے میں جرأت و ہمت سے کام لیا۔
آپؓ شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرزند ہیں جنہوں نے بچپن میں نہایت کمزور ہونے کے باوجود حق کا راستہ چنا اور کبھی دب کر اپنا کوئی کام نہیں نکالا۔ ایسے باغ کے پھول سے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ فسق و فجور کا راستہ اختیار کرتے۔ آپؓ کو تو بچپن سے ہی معلوم تھا کہ آپؓ کو کربلا میں شہید ہونا ہے۔ کوفہ روانگی سے قبل آپؓ نے یہ اعلان فرمایا تھا ’’ جو شخص راہِ خدا میں جان قربان کرنا چاہے اور موت کا مشتاق اور لقاءِ الٰہی کا طالب ہو وہ میرے ساتھ چلے۔‘‘
مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادیؒ فرماتے ہیں ’’ اگرچہ امام کی شہادت کی خبر مشہور تھی اور کوفیوں کی بے وفائی کا پہلے بھی تجربہ ہو چکا تھا مگر جب یزید بادشاہ بن گیا اور اس کی حکومت و سلطنت دین کے لیے خطرہ تھی اور اس کی وجہ سے اس کی بیعت نارواتھی اور وہ طرح طرح کی تدبیروں اور حیلوں سے چاہتا تھا کہ لوگ اس کی بیعت کریں۔ ان حالات میں کوفیوں کا بپاسِ ملت یزید کی بیعت سے دست کشی کرنا اور حضرت امام حسینؓ سے طلبِ بیعت ہونا امام پر لازم کرتا تھا کہ ان کی درخواست قبول فرمائیں۔ جب ایک قوم ظالم و فاسق کی بیعت پر راضی نہ ہو اور صاحبِ استحقاق و اہل سے درخواستِ بیعت کرے تو اگر وہ ان کی استدعا قبول نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اس قوم کو اس جابر ہی کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ امام اگر اس وقت کوفیوں کی درخواست قبول نہ فرماتے تو بارگاہِ الٰہی میں کوفیوں کے اس مطالبے کا امام کے پاس کیا جواب ہوتاکہ ہم ہر چند در پے ہوئے مگر امام بیعت کے لیے راضی نہ ہوئے۔ اسی وجہ سے ہمیں یزید کے ظلم و تشدد سے مجبور ہو کر اس کی بیعت کرنی پڑی۔ اگر امام ہاتھ بڑھاتے تو ہم ان پر جانیں فداکرنے کے لیے حاضر تھے۔ یہ مسئلہ ایسا درپیش آیا جس کا حل بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ حضرت امام ان کی دعوت پر لبیک فرمائیں۔‘‘ (سوانح کربلا)

یزید کی کردار سازی اور اسے حاکمِ برحق قرار دینا در حقیقت ملتِ اسلامیہ کے دلوں سے اسلام اور اہلِ بیتؓ کی محبت و عظمت کو نکالنے کی کوشش کرنا ہے۔یزید کی ولی عہدی سے اسلام میں غیر شرعی موروثی نظامِ حکومت کا سلسلہ شروع ہوا۔ امام حسینؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں انصار و مہاجرین پر جو قیامت ٹوٹی اس کا ذمہ دار بھی یزید تھا جس نے تین روز تک شامی فوج کے لشکریوں کو یہ آزادی دے دی کہ جس کو چاہیں قتل کریں اور جس گھر کو چاہیں لوٹ لیں اور جس کی عزت وناموس کو چاہیں تاراج کر یں۔ کیا یہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ یزید ہی کے حکم سے مسجدِ نبویؐ کی حرمت پامال کی گئی۔ وہ بقعۂ پاک جہاں جبریلِ امین ؑ اترتے تھے اور جس کے ایک حصے کو جنت کی کیاریاں یعنی ’’ریاض الجنۃ‘‘ کہا گیا ہے‘ وہاں گھوڑے باندھے گئے۔ جو شخص بھی ان اعمال سے راضی ہو اور یزید کا وکیل بن کر کھڑا ہو اس کے دل میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیتؓ کی کیا عزت ہوگی۔

یزید کے حمایتی اس حدیث کا سہارا لے کریزید کو مغفور لھم (ان کے لیے بخشش ہے) کے تحت بخشاہوا اور قد اوجبو (ان پر جنت واجب ہوئی)کے تحت جنتی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یزید اس بحری بیڑے میں بھی شامل تھاجس نے سمندر میں جنگ کی اور اسی کی کمان میں قسطنطنیہ فتح ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حدیثِ مبارکہ علمِ غیب پر مشتمل ہے اور علمِ غیب کی تمام احادیث کی طرح اپنے وقت پر سچ ہوئی کیونکہ حضرت اُمِ حرامؓ جن سے یہ حدیث مبارک مروی ہے‘ واقعی اس پہلے لشکر میں شامل تھیں جس نے سمندر میں جنگ کی لیکن اس لشکر میں شامل نہ تھیں جس نے قسطنطنیہ فتح کیا کیونکہ آپؓ سمندر کی جنگ سے واپسی پر شام میں ایک سواری کے جانور سے گِر کر ہلاک ہوگئی تھیں۔ مندرجہ بالا حدیث کے ساتھ ہی کُتبِ حدیث خصوصاََبخاری شریف میں حضرت انسؓ سے روایت ہے ’’پھر ایسا ہوا حضرت عباد ہ بن صامتؓ نے حضرت اُمِ حرامؓ سے نکاح کیا وہ ان کو (روم کے) جہاد میں لے گئے ۔ جب جہاد سے لوٹ کے آرہی تھیں اور اپنے جانور پر سوار ہونے لگیں تو جانور نے انہیں گرِا دیا۔ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور انتقال کر گئیں اور شہید قرار پائیں۔‘‘ (بخاری شریف)

چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ حدیثِ مبارکہ سو فی صد درست ہے لیکن کسی بھی طرح یزیدکے مغفور اور جنتی ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ اوّل تو یزید اس لشکر میں شامل نہ تھاجس نے سمندر میں پہلی جنگ کی۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ لشکرِ اسلام نے بحری جنگ کا آغازحضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں کیااور ان کے دور میں بحری جہاد کے لیے اوّلین اسلامی لشکر کی نشاندہی تاریخ کے صفحات میں27 ہجری سے33 ہجری تک نظر آتی ہے۔جبکہ دوسری بار اسلامی لشکر نے بحری جہاد کا سفر 52 ہجری سے58کے کسی سال میں کیا۔ پہلے بحری لشکر میں تویزید کا شامل ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ یزید کا سنِ پیدائش تقریباََ 26ہجری کے آس پاس بنتا ہے کیونکہ 60ہجری میں واقعہ کربلاکے وقت اس کی عمر 34سال تھی ۔ اس حساب سے اگر پہلے بحری بیڑے کی روانگی 33ہجری میں تسلیم کر لی جائے تو اس وقت یزید کی عمر صرف سات سال ہوگی ظاہر ہے اتنی سی عمر میں وہ بحری جہاد پر نہ گیا ہو گا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پہلے لشکر کے لیے مغفرت کی شہادت دی اس میں تو یزید شامل نہیں تھا۔ یہ پہلا بحری بیڑا حضرت امیر معاویہؓنے رومی حملوں کو روکنے کے لیے حضرت عثمانؓ کی اجازت سے اس وقت قائم کیاجب حضرت امیر معاویہؓ شام کے گورنر تھے اور آپؓ کی ہی قیادت میں اس بحری بیڑے نے پہلاسمندری جہاد کیا۔ دوسرا بحری بیڑا بھی حضرت امیر معاویہؓ نے سمندری جہاد کے لیے بھیجااور یزید کی نافرمانیوں اور عیاشیوں سے تنگ آکر اسے اس سمندری جہاد میں زبردستی بھیجاتھا۔تاریخ کامل ابنِ اثیر میں ہے ’’50ہجری میں حضرت امیر معاویہؓ نے ایک لشکر جرار بلادِ روم کی طرف حضرت سفیان بن عوفؓ کی قیادت میں روانہ کیااور اپنے بیٹے کواس لشکر میں شامل ہونے کا حکم دیاتو یزید پہلے بہانے بنا کر بیٹھارہا، اس کے حیلے بہانے سے تنگ آکرحضرت امیر معاویہؓ نے اس کو رخصت دے دی۔ وہ لشکر راستے میں ابتلا کا شکا رہو گیااور قحط اور بیماری نے اسے لپیٹ میں لے لیا۔ یزید کو پتہ چلا تو اس نے یہ شعر پڑھا جسکا مفہوم یہ ہے:

’’مجھے ہرگز اس کی پرواہ نہیں کہ ان لشکروں پر مقام فرقدونہ پر بخار اور سختی کی بلائیں نازل ہو گئی ہیں۔ جب کہ میں دیر میرآں میں اونچے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں اور اُمِ کلثوم میرے پاس بیٹھی ہیں۔‘‘
حضرت امیر معاویہؓ نے جب یہ شعر سنے تو قسم کھائی کہ اب میں یزید کو سفیان بن عوفؓ کے پاس ضرور بھیجوں گاتاکہ اس کو بھی ان مصیبتوں کا حصہ ملے جو لوگوں پر نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ یزید کو ایک جماعتِ کثیر کے ساتھ جس میں ابنِ عباسؓ ، ابنِ عمرؓ، ابنِ زبیرؓ اور ابو ایوب انصاریؓ بھی شامل تھے، روانہ کیا۔ (تاریخِ کامل ابنِ اثیر۔ جلد 3۔صفحہ 458)
یہی وہ جماعت تھی جس نے قسطنطنیہ فتح کیا، یعنی یزید قسطنطنیہ فتح کرنے والوں میں شامل تھا لیکن اپنی خوشی سے نہیں بلکہ امیر معاویہؓ نے اسے زبردستی بھیجا تھا۔ یہی واقعہ ابنِ خلدون عربی جلد 3صفحہ 10پر بھی ہے۔ پس اگرچہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے بحری بیڑے میں یزید شامل تھا لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جنت کی بشارت صرف پہلے بحری بیڑے میں شامل ہونے والوں کو دی تھی جسے امیر معاویہؓ نے بھیجا تھا اور جس میں یزید شامل نہ تھا۔ (سیّد الشہدا حضرت امام حسینؓ اور یزیدیت)

حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے جانثار ساتھیوں نے کربلا کے میدان میں جس عزم واستقلال اور صبرواستقامت کا بے مثال مظاہرہ کیا اور اپنے خون سے ایک نئی تاریخ رقم کی اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کی لازوال قربانیوں کا اعتراف غیر مسلموں نے بھی کیاہے اور نہایت اچھے الفاظ میں آپؓ کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے ان میں چند کا ذکر بیان کیا جاتا ہے۔ نامور مصنف تھامس کارلائل اپنی مشہور کتاب Heroes and Hero warshipsمیں لکھتے ہیں ’’ میدانِ کربلا کے المیہ سے ہمیں سب سے بڑا سبق ملتا ہے کہ حضرت امام حسینؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کوخداوندتعالیٰ پر یقینِ کامل تھا۔ آپؓ نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ حق اور باطل کی کشمکش میں تعداد کی برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے بھی حسینؓ کی فتح نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔ بہادرانہ کارنامے ایک ملت یا ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ تمام انسانی برادری کی میراث ہوتے ہیں اور دلیری کا جو سبق ہمیں تاریخِ کربلا سے ملتا ہے وہ کسی اور تاریخ سے نہیں ملتا۔‘‘
امریکی مؤرخ کے۔ سی جان اپنی کتاب میں حضرت امام حسینؓ کی شان اس انداز میں بیان کرتے ہیں’’حضرت امام حسینؓ کو قدرت نے اتنا بے پناہ صبر عطا کر دیا تھا کہ ان کے استقلال کی مثال کسی دوسرے انسان میں نہیں ملتی۔ آپؓ کا عزم و ارادہ پہاڑ کی طرح مضبوط تھا اور آپؓ جو کچھ کہتے وہ کر کے دکھاتے تھے اور جو کچھ کرتے تھے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیتے تھے۔ آپؓ کی جوانمردی اور بہادری رہتی دنیا تک تاریخ میں سنہری حروف سے مگر آپؓ کی تکلیف، مشکلات اور مصائب خونِ جگر سے لکھے جائیں گے۔‘‘

ممتاز غیر ملکی دانشور ڈاکٹرکرسٹوفر کا کہنا ہے ’’ کاش دنیا امامؓ کے پیغام، ان کی تعلیم اور مقصد کو سمجھے اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرے۔‘‘
سردار کرتار سنگھ کے خیالات ملاحظہ ہوں:’’محمدؐ نے انسانیت کے جو بہترین اصول پیش کیے تھے حسینؓا بن علیؓ نے اپنی قربانی و شہادت سے انہیں زندہ کردیا۔ ان پر ہدایت کی مہر لگا دی۔ حسینؓ کا اصول اٹل ہے۔ حسینؓ نے جو قلعہ تعمیر کیا اسے کوئی نہیں گِرا سکتا۔‘‘
مہاتما گاندھی کہتے ہیں ’’میں نے کربلا کی داستان اس وقت پڑھی جب میں نوجوان ہی تھا۔ اس نے مجھے دم بخود کر دیا۔ میں نے کربلا کے پیرو کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ہندوستان کی نجات حسینی اصولوں پر عمل کرنے سے ہو سکتی ہے۔‘‘

اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ان یزیدی نظریات کے حامل منافقین کی پہچان عطا فرمائے اور ان سے ہمارے عقائد اور ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین

Sharing is caring!

Comments are closed.