پیٹ کی صفائی صرف ایک دن میں !جادوئی نسخہ

جسم کے اندرونی حصوں کو نہ تو آپ چھو سکتے ہیں نہ ہی دیکھ سکتے ہیں تو پھر ان کی صفائی کیسے ممکن ہے

تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اپنی آنتوں کو نہ تو کسی مشین سے صاف کرنا ہے اور نہ ہی اپنے ہاتھوں سے صاف کرنا ہے بلکہ آنتوں کی صفائی کے لئے آپ کو کچھ خاص چیزوں وک ملا کر ایک طاقتور جو س بنانا ہے

یہ جو س صرف اور صرف چوبیس گھنٹوں میں ہی آپ کی آنتوں سے ساری گندگی اور ٹاکسنز کو پاخانے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکال دے گا اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف چوبیس گھنٹے میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے تو جواب یہ ہے کہ ہم جو بھی کھاتے ہیں.

یہ جو س صرف اور صرف چوبیس گھنٹوں میں ہی آپ کی آنتوں سے ساری گندگی اور ٹاکسنز کو پاخانے اور پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکال دے گا اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ صرف چوبیس گھنٹے میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے تو جواب یہ ہے کہ ہم جو بھی کھاتے ہیں.

اس کھانے کو ہضم کرنے میں چوبیس گھنٹے لگ ہی جاتے ہیں چوبیس گھنٹے بعد جب آپ واش روم جائیں گے تو پیشاب اور پاخانے کے ذریعے ساری گندگی صاف ہوجائے گی آخر آنتوں کی صفائی ہمارے لئے کتنی اہم ہے تا کہ آپ کو آنتوں کی صفائی کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہوسکے ایک بات تو لگ بھگ سارے ہی جانتے ہوں گے

کہ ہمارے جسم میں لگ بھگ دو قسم کی آنتیں ہوتی ہیں ایک چھوٹی آنت اور ایک بڑی آنت ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں وہ ہماری چھوٹی آنت پروسیسنگ کر کے بڑی آنت کی طرف بھیج دیتی ہے لہٰذا ہمیں چھوٹی آنت کی صفائی کی ضرورت نہیں پڑتی ہماری آنتوں میں پائے جانے والے ٹاکسنز اور گندگی صرف بڑی آنت میں ہی ہوتے ہیں۔

اس کو ہم انگلش میں کالن بھی کہتے ہیں ۔آخر بڑی آنت کس طرح سے کام کرتی ہے ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اس سے پانی کو الگ کر کے بچی ہوئی غذا کو پاخانے کی شکل میں جسم سے باہر نکال دینا بڑی آنت کا کام ہے جب کھانا چھوٹی آنت سے پراسیس ہونے کے بعد بڑی آنت میں آتا ہے تو وہاں پر بیکٹیریاز ہماری غذا سے وٹامنزکو الگ کرلیتے ہیں ہماری آنتوں میں لگ بھگ سات سو قسم کے بیکٹیریاز پائے جاتے ہیں۔

یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر بڑی آنت میں یہ گندگی آتی کہاں سے ہے تو اس کا جواب ہے کہ ہم جو بھی کھاتے ہیں وہ ہضم ہونے کے بعد پاخانے کی صورت میں خارج کردیتی ہے لیکن کچھ اجز اء ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہماری بڑی آنت سے خارج نہیں ہوپاتے اور آہستہ آہستہ یہ اجزاء اکٹھے ہوتے ہوتے آنتوں میں زخم کردیتے ہیں یعنی بواسیر اور فرچولا جیسے مسائل پیداکردیتے ہیں۔

آنتوں میں خشکی پیداہوجاتی ہے جس کی وجہ سے قبض ہوجاتی ہے اس بات کو وہ لوگ بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں جن کو باتھ روم میں بہت زیادہ وقت لگانا پڑتا ہے پاخانہ کرنے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ جیسے پاخانہ ابھی پوری طرح سے خارج نہیں ہوا اور وہ باتھ روم میں بیٹھے زور لگاتے رہتے ہیں اور یہ اسی لئے ہوتا ہے کہ آپ کی بڑی آنت میں گندگی جمع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے آپ کھل کر اجابت نہیں کرپاتے آنت کو صاف کرنے کا سب سے آسان طریقہ کون سا ہے

اگر آپ اپنی آنتوں کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ سبزیوں اور پھلوں کو ملا کر ایک جوس بنانا ہوگا یہ جو س صرف اور صرف چوبیس گھنٹوں میں آپ کی آنتوں کو صاف کر دے گا اس ڈرنک میں موجود فائبر آپ کی آنتوں کو ایسے صاف کرے گا جیسے جھاڑو سے گھر کی گندگی کو صاف کیاجاتا ہے۔یہ ڈرنک ساری غلاظت اور ٹاکسنز کو پاخانے اور پیشاب کے راستے باہر نکا ل دیتا ہے یہ ڈرنک کیسے تیار کرنا ہے ۔

ڈرنک تیار کرنے لئے درکار اجزاء:ایک عدد کھیرا ،ایک عدد سنگترہ یعنی مالتٹا ایک عدد سیب،ایک سے دو انچ کا ٹکڑا ایلوویرا کا اور ایک بڑا سلائس انناس یعنی پائن ایپل کا۔ڈرنک بنانے کا طریقہ:سب سے پہلے کھیرے کے چھوٹے چھوٹے سلائس کاٹ لیں اور سیب کو بھی چھیل کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں اسی طرح ایلوویرا کو بھی کاٹ کر جیل الگ کرلیں اور انناس کے سلائس کو بھی ٹکڑوں میں کاٹ لیں مالٹے کی قاشوں سے بیج الگ کر کے صرف گودا نکال لیں اسی طرح سیب کے بھی بیج نکال لیں۔

کسی مکسر میں یہ تمام چیزیں ڈال کر اس میں آدھا یا پونا گلاس پانی ڈال کر اس کا جوس بنالیں ،لیں جناب جو س تیار ہے اب آپ اسے دن میں کسی بھی وقت پی سکتے ہیں۔احتیاطی تدابیر:جب آپ یہ جوس استعمال کریں تو اس کے پینے کے دو گھنٹے بعد تک کچھ بھی نہیں کھانا بالکل بھی نہیں کھانا جس دن آپ نے اپنی آنتوں کی صفائی کرنی ہو اس دن ہلکا پھلکا کھانا کھائیں

جیسے ساگودانہ،اوٹس،دلیہ،کھچڑی ،پتلی دال اور پھلکا سب سے اہم بات آپ کو آٹھ سے دس گلاس پانی بھی ضرور پینا ہے ہر دس سے پندرہ دن کےبعد آپ اس ڈرنک کو پی کر اپنی آنتوں کو صاف کرسکتے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.