کربلا میں امام حسین حضور ؐکی آمد

حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ ؐ نے کہا کیا نام رکھا ہے؟

کہا کہ ” حرب”۔ اصلی شاہ سوار تھے۔ انہوں نے اسی لحاظ سے نام رکھا۔ میدان کا شاہ سوار جنگ کا نہیں ۔ حسن۔ پھر حسین پیدا ہوئے ۔ علی کیا نام رکھا ہے؟ کہا ” حرب” ۔ کہا”حسین ” ۔ پھرفرمایا: جب سے کائنات چل رہی ہے۔ جب سے آدم کی نسل چلی ہے۔ یہ دو نام اللہ نے میرے بچوں کے لیے سنبھال کے رکھے تھے۔ آج سے یہ دو نام کسی کو نہیں ملے۔ یہ میرے بچوں کے لیے تھے۔ عرب میں عیب تھا۔ بچے کو اٹھا کر پیار کرنا۔ عیب تھا۔ اور میرے نبی باہر تشریف لائے۔ حسن اس کندھے اور حسین اس کندھے پر تھے۔ یہاں اٹھانا بھی ع ی ب تھا۔ یہاں بٹھایا ہوا کہ جو اس سے بھی زیادہ عجیب بات۔

یہاں تک کہ ایک بدو نہیں رہ سکا۔ یا رسول اللہ یہ کیا ؟ آپ کو اتنے پیارے لگتے ہیں۔ آپ کو اتنا پیار ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا: مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ اور بتاؤں اللہ بھی ان سے پیار کرتا ہے۔ اور کہا اور بتاؤں ۔ جو ان سے پیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے پیار کرے گا۔ جو ان سے بغض رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے بغض رکھے گا۔ جو ان سے پیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے پیار کرےگا۔ اے اللہ ! میں ان سے پیار کرتا ہوں۔ تو بھی ان سے پیار فرما۔ حضرت حسن امام ماتھے سے لےکر چھاتی تک اللہ کے نبی کی تصویر تھے ۔ اور چھاتی سے پاؤں تک اپنے باپ کی تصویر تھے۔ امام حسین عالی مقام ماتھے سے لے کر چھاتی تک اپنے باپ کی تصویر تھے۔ اور چھاتی سے لے کر پاؤں تک اپنے نانا کی تصویر تھے۔

اس مشابہت کی وجہ سے آپ فرمایا کر تے تھے حسن میرا بیٹا ہے حسین علی کا بیٹا ہے جنہوں نے نبی کے کندھے اور کمر پر سواری کیے ہوں۔ وہ کیسے شاہ سوار تھے؟ یہ جنت دوزخ کامسئلہ نہیں تھا۔ یہ پیغام حق کامسئلہ تھا۔ عین اس وقت نماز پڑھ دکھائی۔ کہ جب ظلم وستم میں انتہاء پر مظلومیت انتہاء اور نماز چھوڑ دے ۔ جنگ سے پہلے نیند آگئی ۔ ایسا اطمینان کہ نیند آگئی۔ اور آنکھ کھلی تو ہنسنے لگے۔ ہائے! ام المصائب بہن زینب نے پوچھا : بھائی یہ کونسا ہنسنے کا موقع ہے۔ کہا : بہن اللہ کے نبی خواب میں آئیں ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں لینے آچکا ہوں۔ ادھر شہادت ہورہی تھی۔ ادھر ابن عباس سوئے ہوئے خواب دیکھ رہے تھے۔ میرے نبی کے ہاتھ میں بوتل میں تھی ۔ اور اس میں خ ون تھا۔ اور وہ زمین سے اور خ ون اٹھا کر ڈال رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ! یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ حسین اور اس کی ساتھیوں کا خ ون ہے۔ میں جمع کر رہا ہوں۔ قیامت کے دن میں ان کا وکیل بنوں گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.