”کھانے سے قبل نمک کھانا جسم میں کیا تبدیلیاں لاتا ہے؟ ڈاکٹر ہمیشہ یہ راز چھپاتے ہیں ، نبی ﷺ کا فرمان سن لیں“

ویسے تو کھانے کو ذائقہ دار بنانے کے لیے نمک کااستعمال کیاجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اوسط درجے کے آدمی کےلیے دن رات میں دو سے تین گرام نمک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف احادیث میں نمک کا ذکر ملتا ہے تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سالن کا سردار نمک ہے۔ یہ حدیث سنن ابن ماجہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کھانے نمک سے شروع کرواور نمک پر ہی ختم کرو۔ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفاء ہے۔ جس میں جزام، برص، درد قلب، درد دندان اور درد شکم شامل ہے۔ امام صادق ؒ کا فرمان ہے جو شخص اپنے پہلے لقمے پر نمک چھڑکے تو چہرے سے سفید سیا ہ پھنسیاں مٹ جائیں گی۔ معلوم ہوا کہ نمک صرف کھانے میں ذائقہ کے لیے نہیں استعمال ہوتا بلکہ اس کے بے بہافوائدہیں۔ جس کے بارے میں طب نبوی ﷺ میں بھی ذکر ملتا ہے۔ ہم آپ کو نمک کے انہی فوائد کے بارے میں بتائیں گے۔

کہ نمک سے آپ روزہ مرہ زندگی میں کیا کیا فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ نمک ایک کیمیا دان کےلیے کیمیائی مرکب سوڈیم کلورائیڈ ہے جبکہ عام لوگوں کے لیے نمک ایک بے رنگ یا سفید بلوری پوسٹ مادہ ہے جسے کھانوں میں ڈالنے کے لیے اور چیزوں کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے۔ یاد رہے ! نمک کو انسانی تاریخ میں ابتدائی دور سے استعمال کیا جاتارہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کا ذکر طب نبوی ﷺ میں بھی ملتا ہے۔ طب نبوی ﷺ میں آتا ہے کہ تاجدار نبیاءﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جو شخص کھانےسےپہلے اور بعد میں نمک چکھے تو وہ تین سو تیس بلاؤں سے بچ جائے گا۔ سب سے کم تر جزام ہے ۔ نمک کے بے بہا فوائد ہیں۔ جن کو طب نبوی ﷺ میں نقل کیاگیا ہے۔ ماہرین طب نے طب نبوی ﷺ سے اخذ کیا ہے کہ نمک بدن کو تقویت بخشنے کے ساتھ ساتھ اسے فاسد اور متعفن ہونے سے بچاتا ہے خارش کے زخموں کے لیے نافع ہے۔ اگر اس کو بطور سرمہ استعمال کیا جائے تو آنکھوں کے بد گ وشت کوختم کردیتا ہے

اور ناخنا جڑسے ختم کردیتاہے۔ تاجدار مدینہ ﷺ نے نمک کو بطو ر دفع ز ہ ر استعمال فرمایا ۔ جس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے باحالت سجدہ دست مبارک پر بچھو نے ڈنک مارا ۔ آپﷺ نے بچھو کو جوتا سے دبا دیا۔ اور فارغ ہوکر فرمایا: اس بچھو پر اللہ کی پھٹکار ہو۔ یہ نمازی اور غیر نمازی اور بعض روایت میں ہے کہ یہ نبی اور غیر نبی کو کسی کو بھی نہیں چھوڑتا۔ اس کے بعد انگلی کو پاؤں میں ڈبویا اور اس پر ہاتھ پھیرتے تعوذتین پڑھتے جاتے ۔

گویاتاجدار ﷺ نے اللہ نے دواکی اور دعا سے بھی کام لیا۔ یوں بھی بچھو کے ز ہ ر میں تیز قسم کا ایسڈ مادہ ہوتا ہے۔ جس کی تعدیل ک لیے نمکین مادہ ہی مناسب تھا۔ چنانچہ تاجدار مدینہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فوری آرام کے لیے اسی سہل چیز کا اہتمام فرمایا جو ہر گھر میں دستیاب ہوسکتی ہے۔ اندرونی جریان، خ ون ، نفس دام یعنی خ ون تھوکنے کو بند کرتا ہے ۔ نمک اندورنی باریک باریک کیڑوں کو ہ لاک کرتا ہے۔ مرگی اور شقیقہ یعنی آدھے سر کے درد وغیرہ میں بھی مفید ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.