”گھر میں داخل ہوتے وقت درود شریف کے بعد ان چھ آیات“

گھر میں داخل ہوتے وقت درود شریف کے بعد ان چھ آیات کا کو پڑھیں ،رزق دروازے توڑ کر آئے گا ؟

حضورکریم ؐ کا ارشاد گرامی ہے جو آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت تین باتوں کا اہتمام کرے گا ،رزق اس کے دروازے توڑ کر آئے گا . پہلا وہ گھر میں داخل ہوتے وقت السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہے خواہ سامنے کوئی موجود ہو یا نہ ہو ، اس کے بعد ایک مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اور پھر مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے .

مزید نیچے تصاویر میں خواتین کو خوش کرنا وہ فن ہے کہ جو ہر مرد کے پاس نہیں ہوتا اور یہ سب کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح انہیں وہ باتیں معلوم ہوجائیں جنہیں سن کر خواتین کا دل باغ باغ ہوجائے. برطانوی ماہرین نفسیات نے ایک جامع تحقیق کے بعد وہ اہم ترین باتیں معلوم کرلی ہیں کہ جنہیں سننا خواتین کے لئے سب سے زیادہ خوشی کا باعث بنتا ہے. -1 ”آپ میری زندگی میں آنے والی پہلی خاتون ہیں.“ اگرچہ یہ جملہ کہنے والے مرد درجنوں خواتین کے ساتھ عشق لڑا چکے ہوں مگر یہ کہنا ہمیشہ ان کی محبوبہ کو مسرور کردیتا ہے. -2 ”مجھے کبھی کسی کی قربت میں ایسا لطف نہیں ملا.“ یہ وہ جملہ ہے جو تجربہ کار خواتین کو خصوصی طور پر نہایت متاثرکرتا ہے اور وہ اسے اپنی جیت سمجھتی ہیں. -3 ”تم اس قدر شائستہ اور تہذیب یافتہ ہو کہ تم دنیا کی بہترین ماں ثابت ہوگی.“ یہ جملہ شریف النفس خواتین کے لئے بہت موزوں ہیں اور وہ اسے اپنی تعریف سمجھتی ہیں….جاری ہے. -4 ”پلیز ساری زندگی میرے ساتھ رہنا.“ یہ جملہ خواتین کو احساس تحفظ دلاتا ہے اور انہیں اس بات کا خدشہ نہیں رہتا کہ کل اس مرد کی نیت بدل سکتی ہے. -5 ”میری خوش

قسمتی ہے کہ مجھے تم جیسی محبوبہ ملی ہے.“ کسی خاتون کو اہمیت کا احساس دلانے کے لئے اس سے اچھا جملہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سن کر خاتون اپنے آپ کو دوسری خواتین سے افضل سمجھتی ہے. -6 ”آئی لو یو!“ یہ وہ جملہ ہے جو ہر روز اربوں مرد اربوں خواتین کو کہتے ہیں مگر اس کی اہمیت کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہی اور اگرچہ سب کو معلوم ہے کہ یہ اب ایک روایتی جملہ بن چکا ہے مگر کسی بھی خاتون کو یہ جملہ سننے سے جو خوشی محسوس ہوتی ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے. بیٹا میں قبر سے بات کر رہا ہوں اور“ 2سال قبل انتقال کرجانے والا باپ اپنے بیٹے کو لکھی جانے والی ای میل میں یہاں سے بات شروع کرتا ہے اور اپنی موت کے 2سال بعد اپنے بیٹے سے ایسی باتیں کہتا ہے کہ جان کر کسی کی بھی آنکھیں نم ہو جائیں. برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ریڈیٹ(Reddit) پر نوجوان نے اپنے باپ کی طرف سے آنے والی اس ای میل کی تفصیلات شیئر کی ہیں. نوجوان کے مطابق اس کا باپ لکھتا ہے کہ ”ہیلو بیٹا! میں قبر سے تم سے بات کر رہا ہوں، جیسا کہ میں تم سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میں واپس آؤں گا اور تمہارے معمولات کی تمام خبر رکھوں گا. مجھے امید ہے کہ اب تک تم اس بوڑھے آدمی کے بغیر زندگی گزارنا سیکھ چکے ہوگے اور اپنی ماں کی بھی دیکھ بھال کررہے ہو گے.مجھے تم پر مکمل اعتماد ہے کہ تم مجھ سے بڑھ کر اپنی ماں کا خیال رکھ رہے ہو ں گے.“

ای میل میں نوجوان کا والد مزید لکھتا ہے کہ ”زندگی میں میں نے تمہیں خوش رکھنے کے لیے کچھ باتیں نہیں بتائیں یا اس طریقے سے بتائیں کہ تم سمجھ نہیں سکے. اب میں تمہیں وہ سب باتیں بتانا چاہتا ہوں.“ اس کے بعد بیرسی(Beersie) نامی نوجوان لکھتا ہے کہ وہ کچھ ذاتی نوعیت کی باتیں شروع کر دیتے ہیں جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر نہیں کی جا سکتیں.دو سال قبل انتقال کرجانے والے باپ کی طرف سے بیٹے کو ای میل موصول ہونا کوئی افسانوی بات نہیں ہے بلکہ ایک ویب سائٹ FutureMe.Orgصارفین کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ خود کو یا اپنے کسی بھی عزیز کو ای میل لکھ سکتے ہیں. یہ ای میل فوری طور پر نہیں بھیجی جاتی بلکہ صارف جو تاریخ وہاں درج کرتا ہے اسی تاریخ کو بھیجی جاتی ہے. مثال کے طور پر اگر آپ آج اس سروس کے ذریعے خود کو ای میل کرتے ہیں اور دو سال بعد کی تاریخ منتخب کرتے ہیں تو یہ ای میل آپ کو دو سال بعد موصول ہو گی. اسی سروس کے ذریعے نوجوان کے باپ نے اپنے انتقال سے قبل یہ ای میل اپنے بیٹے کو لکھی تھی جو مقررہ تاریخ کو اسے موصول ہو گئی. وہ لوگوں کو زبردستی خنزیر کا گوشت کھلایا کرتا تھا جو انکار کرتا اسے قتل کروا دیتا، چنانچہ اس عورت کو بھی اپنے بیٹوں سمیت بادشاہ کے پاس لایا گیا.

اس نے سارہ کے سب سے بڑے بیٹے کو پاس بلا کر کہا کہ خنزیر کا گوشت کھاؤ، اس نے کہا میں اللہ تعالٰی کی حرام کردہ چیز کو ہرگز نہیں کھاؤں گا. بادشاہ نے جب انکار سنا تو اس کے ہر ہر عضو کو کاٹ ڈالا شہید کر دیا. پھر ظالم بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور اسے خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا. اس لڑکے نے بھی جرات ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کیا تو بادشاہ نے طیش و غصہ میں آ کر حکم دیا کہ ایک تانبے کی دیگ میں تیل ڈال کر خوب گرم کرو, جب تیل خوب گرم ہو گیا تو ظالم بادشاہ نے اس لڑکے کو کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا اور وہ شہید ہو گیا. پھر بادشاہ نے اس سے چھوٹے لڑکے کو بلایا اور خنزیر کا گوشت کھانے کو کہا تو اس نے کہا کہ اے بادشاہ تو ذلیل و کمزور ہے تو اللہ عزوجل کے مقابلہ میں کچھ نہیں تیرے جی میں جو آئے وہ کر لے لیکن میں اللہ کی حرام کردہ چیز کو منہ نہ لگاؤں گا. بادشاہ نے یہ سن کر کہا کہ میں تمھیں سخت سزا دوں گا.چنانچہ بادشاہ کے حکم پر اس نوجوان کی گردن کی کھال کاٹی گئی، پھر اس کے سر اور چہرہ کی کھال اتاری گئی اور اسے شہید کر دیا گیا. بادشاہ نے ظالمانہ انداز سے باقی بھائیوں کو بھی اسی طرح شہید کر دیا. اس کے بعد سب سے چھوٹا بھائی باقی بچا. بادشاہ نے اس کی والدہ کو بلایا اور کہا کہ دیکھ جس طرح باقیوں کا حشر کیا ہے تیرے اس چھوٹے بیٹے کا بھی یہی حشر کروں گا، تو اسے جا کر سمجھا کہ اگر یہ لقمہ کھانے پر راضی ہو گیا تو تم دونوں کو چھوڑ دوں گا.

پھر ماں اپنے بیٹے کو تنہائی میں لے گئیاور اس سے کہا میرے لخت جگر کیا تو جانتا ہے کہ تیرے بھائیوں میں سے ہر ایک پر میرا ایک حق ہے اور تجھ پر میرے دو حق ہیں وہ یہ کہ میں نے تیرے بھائیوں کو دو دو سال دودھ پلایا لیکن جب تم پیدا ہوئے تو نہایت کمزور تھے، تمھاری اس کمزوری نے مریے دل میں تمھاری شدید محبت پیدا کی تو اس کمزوری اور تمھاری محبت کی وجہ سے تمھیں چار سال دودھ پلایا، تجھے اللہ عزوجل اور اس کے احسان کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو ہرگز خنزیر کا گوشت نہ کھانا

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *