”یورک ایسڈ کا دیسی علاج“

یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔

اس کا اصل کام انسانی جسم میں گرمی کو پیدا کرنا ہے۔
خوراکی لحاظ سے غذائیں جو جسم میں پیورین پیدا کرتی ہیں جس سے کہ یورک ایسڈ جسم میں بنتا ہے۔ جیسے کھٹی، گوشت والی اور گہری سبز سبزیاں۔ اس کے علاوہ کینسر اور جنسی اور پٹوں کی طاقت کی ادویات، گردوں میں سوزش یا /اور پتھری، بھی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

یورک ایسڈ پانی میں حل پذیر ہے۔ لیکن کسی بھی وجہ سے اس کی مقدار جسم میں بڑھ جائے تو جسم میں دردیں، جوڑوں خاص طور پر پاؤں، گٹھنوں، ایڑھیوں، ہاتھ اور انگلیوں کے جوڑوں، اور کہنی میں سوجن، جلن اور گرمی بڑھ جاتی ہے۔
یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجہ میں کھٹی اور گوشت کی خوراک زیادہ استعمال، ورزش نہ کرنا، محنت سے دل چرانا، گردوں کی کمزوری، کینسر یا کیسر کا علاج، طاقت کی ادویات کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے اختیاط لازم ہے۔

اس تکلیف میں گرمی ہو یا سردی زیادہ پانی پینے کا احتمام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یورک ایسڈ پانی میں حل ہو کر نکل جاتا ہے۔
اس کی زیادہ تر دوایاں پیشاب آور اثر رکھتی ہیں۔ جن کے ساتھ پانی زیادہ پینے کی تاکید کی جاتی ہے۔ تا کہ جسم

میں پانی کی کمی نہ ہو۔

صبح ہلکے گرم پانی میں ایک چمچ شہد اور ایک چمچ دیسی ایپل سیڈر سرکہ ڈال کر پینے سے یورک ایسڈ، کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر، چھینکیں سب میں اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے۔
علاج:چھوٹی سبزالائچی 6عدد، تازہ پودینہ کے پتے 16 ، ادرک کٹا ہوا1 تولہ، سونف 1چھوٹا چمچ

ترکیب تیاری: 8 کپ پانی میں ڈال کر اتنا اُبالیں کہ 6 کپ رہ جائے ‘ صبح، دوپہر،شام کھانے کے بعد ایک کپ پی لیں۔ یہ دو دن کی خوراک ہے اس جوشاندے کا استعمال 2 سے 3 ماہ تک کریں۔ اللہ کے فضل سے 1 ماہ میں ہی بہتری ہو گی۔

پرہیز: گوشت ہر قسم‘ پالک۔اچار۔گرم مصالحے۔ٹماٹو۔انڈے۔اور چنے کی دال ۔ان تمام چیزوں کا سختی سے پرہیز کریں کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *