”حمل کے پانچواں ماہ میں اکثر لوگ غلطیاں کر تے ہیں۔“

ہر حاملہ عورت کو، چاہے وہ شادی شدہ اور پہلے سے اولاد والی ہو یا بہت چھوٹی، تنہا یا پہلی بار حاملہ ہوئی ہو،

اپنے خاندان اور برادری کی محبت اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے صحت کی مناسب نگہداشت اور موزوں غذا کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اسے تسلی دیں، اگر وہ بیمار، تھکی ہوئی یا خوفزدہ ہو۔ حمل کے دوران جب عورتوں کا جسم تبدیل ہوتا ہے تو اکثر ان کے احساسات بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔روزمرہ کاموں میں اس کی مدد کریں،تاکہ اسے بھاری بوجھ نہ اٹھانے پڑیں۔ ہلکے پھلکے کام کرنا اچھی ورزش ہے۔یقینی بنائیں کہ اسے پانی مہیا ہو، تاکہ وہ باقاعدگی سے نہا دھو سکے۔

یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ بچہ پیٹ میں مناسب طور پر پروان چڑھ رہا ہے اور ماں صحت مند ہے، بچے کی پیدائش سے پہلے کے معائنے ضروری ہیں۔ زچگی سے پہلے اچھی نگہداشت کے لیے کچھ تربیت درکار ہوتی ہے لیکن اسے سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس میں بہت زیادہ آلات وغیرہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی حاملہ عورت کو کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم تین چار معائنے کرائے، ایک اس وقت ہونا چاہیے جب وہ یہ سمجھے کہ حاملہ ہوگئی ہے، اگلا تقریباً چھ ماہ بعد اور پھر ولادت کے متوقع مہینے کے دوران مزید دو معائنے۔

یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ بچہ پیٹ میں مناسب طور پر پروان چڑھ رہا ہے اور ماں صحت مند ہے، بچے کی پیدائش سے پہلے کے معائنے ضروری ہیں۔ زچگی سے پہلے اچھی نگہداشت کے لیے کچھ تربیت درکار ہوتی ہے لیکن اسے سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس میں بہت زیادہ آلات وغیرہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی حاملہ عورت کو کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم تین چار معائنے کرائے، ایک اس وقت ہونا چاہیے جب وہ یہ سمجھے کہ حاملہ ہوگئی ہے، اگلا تقریباً چھ ماہ بعد اور پھر ولادت کے متوقع مہینے کے دوران مزید دو معائنے۔

مڈوائفیں عورتوں کی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ:غریب بستیوں میں صرف وہی صحت کارکن ہوتی ہیں یا عورتیں انہی کے خرچ کی متحمل ہوسکتی ہیں۔وہ عموماً ان ہی برادریوں یا علاقوں میں رہتی ہیں جن میں خدمات انجام دیتی ہیں اس لیے خاندان ان سے واقف ہوتے ہیں اور ان پر اعتبار کرتے ہیں۔وہ عموماً ڈاکٹر یا دیگر صحت کارکن سے زیادہ وقت عورتوں کے ساتھ گزارتی ہیں

جس سے انہیں خطرے کی علامات محسوس کرنے اور عورت کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔وہ عموماً عورتیں ہوتی ہیں اور بیشتر عورتیں کسی عورت سے بات کرنا اور معائنہ کروانا زیادہ پسندکرتی ہیں۔وہ عورتوں کو زچگی میں اس طرح مدد دیتی ہیں جس میں ان کی خواہشات اور روایات کا احترام شامل ہوتا ہے۔ جو عورت خوب کھاتی پیتی ہے اور اپنے جسم کا خیال رکھتی ہے اس کا حمل صحت سے بھرپور ہوتا ہے

اور بچہ تندرست رہتا ہے۔ اچھا کھانے پینے سے ماں کے پیٹ میں بچے کو پروان چڑھنےمیں مدد ملتی ہے، پیدائش کےبعد بہت زیادہ خون نہیں بہتا اور ماں کی طاقت جلد بحال ہوجاتی ہے۔ حاملہ عورت کو روزانہ کافی غذا کی ضرورت ہوتی ہے خصوصاً ایسی خوراک جس میں آئرن کی مقدار بھرپور ہو جیسے گوشت، مچھلی، چکن، انڈے، دالیں، مٹر اور پتوں والی ہری سبزیاں۔ اگر خاندان میں سب کے لیے کافی غذا نہیں تو عورت کو ہمیشہ دوسروں جتنی یا ممکن ہو تو زیادہ غذا ملنی چاہیے۔ اسے فولک ایسڈاستعمال کرنا چاہیے اور اپنی صحت کارکن سے پوچھنا چاہیے کہ کیا اسے دیگر کون سے حیاتین (وٹامنز)کی ضرورت ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.