حضورؐ کا صحابہ کو بتایا ہوا طاقتور وظیفہ

میں آپ سے ایسی بات شئیرکرناچاہتا ہوں۔ جس کی مجھے بھی ضرورت ہے۔ ہرکلمہ گو کو بھی ضرورت ہے۔

جس نے اللہ اوراللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لایا ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے حکموں کا بھی پابند رہے۔ اللہ کے حکم کومانے۔ اس کےاوپرعمل کرے محمد ﷺ کے ہرطریقے ۔کوہرادا کودل کی گہرائیوں سے محبت کے ساتھ تسلیم کرے۔ حضوراکرمﷺ کے پاس صحابہ بھی جاتے تھے۔ پریشانیوں کو بھی لے کرجاتے تھے۔ معاملات کے حل کے لئے بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ مسائل پوچھنے کےلئے بھی جاتے تھے ۔اورزندگی گزارنے کے طریقے معلوم کرتے تھے۔

تو آپ ﷺ نے ایک غریب آدمی سے لے کر بادشاہ تک ہرآدمی کے زندگی گزارنے کے طریقے بتائے۔ کوئی آدمی جاتا کہ ہمارے گھر کے اندررزق کی تنگی ہے ۔کاروبار نہیں ہے پریشان ہیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کا وظیفہ بند کردیا۔ توآپ ﷺ کیا بتاتے فرمایا کرتے تھے۔ سورہ واقعہ پڑھ لیا کرو۔ یہ سورہ واقعہ ستائیسویں سپارے کہ اندر ہے۔ اورپھریہ کہتے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے۔ میرے ہرامتی کے سینے کے اندر یہ سورہ محفوظ ہوجائے۔ اوربہت سارے صحابہ کے واقع بھی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت جليل القدر صحابی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورے خلافت میں ان کا جو مہانہ معاوضہ تھا۔ ان کی جو تنخواہ تھی۔ وہ روک دی اوردل میں سوچا کہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ اور آ کے میرے پاس مطالبہ کریں گے ۔کہ میرے کام کا معاوضہ کیوں نہیں دیا۔

جب انہیں پتہ چلا کہ فارق اعظم رضی اللہ عنہ نے میرا مہینہ کا معاوضہ روک دیا ہے۔ فوراً اپنے گھرگئے جا کر بچیوں سے کہا کہ آج کے بعد تم سب نے سورہ واقعہ پڑھنی ہے۔ انہوں نے پڑھنی شروع کردی۔ چھ مہینے گزرگئے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ انتظار کررہے ہیں۔ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائیں گے۔ اورآ کر مجھے کہیں گے کہ آپ نے میرا معاوضہ کیوں روکا۔ وہ گئے نہیں اورآخر کارفاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خود بلانا پڑا۔ اور بلایا اورپوچھا کیا آپ نے اپنے لیے کوئی اسٹاک جمع کر کے رکھا تھا۔ چھ مہینے ہوگئے آپ نے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا۔ میرے ساتھ توانہوں نے فرمایا جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ آپ نے میری تنخواہ بند کردی۔ تو میں نے گھر میں بچیوں سے جا کر بتایا ۔کہ یہ حضورنبی اکرم ﷺ کا بتایا ہواعمل ہے۔ کوئی معمولی چیز نہیں سورہ واقعہ پڑھو۔ اللہ اس کی برکت سے مجھے روزی دے رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *