”یاقھار پڑھنےکے بڑے6معجزاتی فوائد“

سید نا ابو زر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فر ما یا اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے

اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں پس تم سب مجھ سے کھا نا مانگو تا کہ میں تمہیں کھلا ؤں اے میرے بندو تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جسے میں پہنا دوں تو تم سب مجھ سے ہی لباس طلب کر و تا کہ میں تمہیں پہنا دوں اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے اور پچھلے تمہارے جن و انسان سب ایک ہی میدان میں جمع ہو جا ئیں اور سب مل کر مجھ سے سوال کر یں۔اور میں ہر سوال کرنے والے کو اس کی طلب کے مطابق عطا کر دوں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی نہیں ہو گی جتنی ایک سوئی کو سمندر کو ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی ہو تی ہے۔

آپ نے “یاقھار ” کو دو سو مر تبہ آپ لوگوں نے اس اسمِ مبارک کو پڑھ لینا ہے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ اپنے بے شمار خزانوں میں سے آپ کو عطا فر ما ئے گا اور بے شک اللہ ہی ہر چیز عطا کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک کا بہت ہی نا یا ب عمل جو آپ نے کر نا ہے اللہ تعالیٰ کا نام یا قھارُ اس کا ورد کرنے سے جادو کے اثرات ختم ہو تے ہیں ۔اس کے لیے بہت ہی اکسیر عمل ہے اگر کسی مرد یا عورت پر کالے علم یعنی جادو کے تعویذات ڈال دئیے گئے ہوں تو اس اسم کو دو سو مر تبہ پڑھ لیا کر یں اور پانی پر دم کر کے پی لیا کر یں اور اس کے ساتھ ساتھ اس پانی کو گھر کے چاروں کو نوں میں چھڑکا دیا کر یں انشاء اللہ گھر سے اور اس بندے سے جادو کا سارا اثر ختم ہو جا ئے گا آج کل حالات بہت برے ہیں کوئی کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتا حاسدین سے بچنے کے لیے جادو کے شر سے بچنے کے لیے اس اسمِ مبارک کو صرف دو سو مرتبہ پڑھ لینا ہے۔

اس کے بعد اس کا دوسرا فائدہ ہے کہ اس کو پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو تی ہے بزرگانِ دین اس اسم کے متعلق خیال کر تے ہیں کہ اسے کثرت سے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو تی ہے اللہ تعالیٰ اپنی محبت سے اس کے دل کو نورِ معرفت سے بھر پور کر دیتا ہے ایسا شخص جسے دنیا کو چھوڑ کر اللہ کا راستہ مطلوب ہو تو اس کے لیے اس اسم کا ورد بہت مفید ہے اگر کسی جگہ پر یا گھر سے ڈر لگتا ہے بچوں یا بڑوں کے اندر خوف پیدا ہو چکا ہے تو وہاں اس اسمِ مبارک کو پڑھ لیا جا ئے اسی تعداد میں جو آپ کو بتائی گئی ہے تو انشاء اللہ اس کے دل سے خوف ڈر ختم ہو جا ئے گا ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *