”آقاﷺ کی نصیحتیں جو زندگی بدل دیں ہرآدمی کی زندگی میں اس کے تین بھائی ہوتے ہیں“

حضرت ابو ذر ؓ سے روایت کہ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر وہ اس طویل حدیث کو عرض کرتے ہوئے فرماتے ہیں

۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ حضرت ابراہیمؑ کے صحیفے کیا تھے آپﷺ نے فرمایا ان صحیفوں میں صرف مثالیں اور نصحیتیں تھیں ان میں یہ نصحیت بھی تھی اے مسلط ہونے والے بادشاہ جسے آزمائش میں ڈالا جا چکا ہے جو دھوکہ میں پڑا ہوا ہے میں نے تجھے اس لیے نہیں بھیجا کہ دنیا میں تو پیسوں کے ڈھیر لگا دے

میں نے تجھے اس لیے بھیجا کہ کسی مظل۔وم کی بددعا کو میرے پاس نہ آنے دے جب کسی م۔ظلوم کی بددعا میرے پا س پہنچ جاتی ہے میں اسے رد نہیں کرنا چاہتا وہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو جب تک عقل مند آدمی کی عقل مغلوب نہ ہوجائے اس وقت اسے چاہیے کہ وہ اپنے اوقات کی تقسیم کرے کچھ وقت اپنے رب سے راز ونیاز کی باتیں کرنے کیلئے ہونا چاہیے ۔کچھ وقت اللہ کی کاری گری اور اس کی مخلوقات غور وفکر کرنے کیلئے ہونا چاہیے کچھ وقت کھانے پینے کی ضروریات کیلئے فارغ ہونا چاہیے ۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ تین کاموں کیلئے سفر کرے یاتو آخرت کا توشہ بنانے کیلئے یا معاش ٹھیک کرنے کیلئے یا حلال ل۔ذت کو حاصل کرنے کیلئے اور عقل مند کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانہ کے حالات پر نگاہ رکھے اور حالت کی طرف متوجہ رہے اپنی زبان کی حفاظت کرے جو بھی اپنی گفتگو کا خود سے محاسبا کرے گا

وہ کوئی بیکار بات نہیں کرے بلکہ مقصدکی بات کرے گا۔ حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں میں نے پھر عرض کیا یارسول اللہﷺ حضرت موسیٰ کے صحیفے کیا تھے آپﷺ نے فرمایا ان سب میں عبرت کی باتیں اور نصیحتیں تھیں مجھے اس بات پر تعجب ہے جسے موت کا یقین ہے اور خوش ہوتا ہے مجھے اس آدمی پر تعجب جسے جہنم کا یقین اور پھر وہ ہنستا مجھے اس آدمی پر تعجب جسے تقدیر کا یقین ہے پھر بھی اپنے آپ کو بلا ضرور دنیا کیلئے تھکاتا ہے ۔ مجھے اس آدمی پر تعجب جس نے دنیا کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ دنیا آنی جانی چیز ہے پھر مطمئن ہوکر اس سے دل لگا لیا۔ مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جسے کل قی۔امت کے حساب کا یقین ہے پھر بھی اس پر عمل نہیں کرتا حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں میں نے پھر عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ مجھے کچھ نصیحتیں فرما دیں میں مجھے اللہ سے ڈرن۔ے کی نصحیت کرتا ہوں یہ ڈر تمہارے سارے معاملات کو خوبصورت بنا دیگا۔آپ ﷺ نے فرمایاتمہاری اور تمہارے مال اور تمہارے اہل وعیال عمل کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے تین بھائی ہوں

جب اس کی م۔وت کا وقت قریب آیا اس نے بھائیوں کو بلا کر ایک بھائی سے کہا تم دیکھ رہا ہو میرے م۔رنے کا وقت قریب آگیا ہے اب تم میرے لیے کیاکرسکتے ہو اس نے کہا میں تمہارے لیے یہ کرسکتا ہوں کہ تمہاری خدمت کروں گا میں تمہاری خدمت سے اکتاؤں گا اور تمہارا ہر کام کروں گا جب تم م۔ر جاؤ گے تمہیں غسل کراؤں گا اور تمہیں کفن پہناؤں گا دوسروں کے ساتھ تمہارے ج۔نازے کو اٹھاؤں گا۔اس کا یہ بھائی تو اس کے اہل وعیال اور رشتہ دارہوں۔پھرآپﷺ نے فرمایا اس بھائی کے بارے میں تم لوگوں کا خیال ہے صحابہ کرام ؓ نے کہا کہ یارسول اللہﷺ اس میں کوئی خاص فائدے کی بات نہیں سنی ۔آپﷺ نے فرمایا پھر اس نے دوسرے بھائی کو کہا م۔وت کی مصیبت میرے سر پر آگئی ہے تو اب تم میرے لیے کیا کرسکتے ہو

میرے کس کام آسکتے ہو اس نے کہا جب تک آپ زندہ ہیں میں آپ کے کام آسکوں گا جب آپ م۔ر جائیں گے۔ تو آپ کا راستہ الگ میرا راستہ الگ یہ اس کا مال ہے ۔آپﷺ نے صحابہ ؓ نے فرمایا اس بھائی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ۔صحابہ ؓ نے کہا اس کوئی خاص فائدہ ہم نے نہیں دیکھا۔پھر اس نے تیسرے بھائی سے کہا کہ تم دیکھ رہو م۔وت میرے سر پر آچکی ہے تم میرے لیے کیا کرسکتے ہو۔اس نے کہا میں ق۔بر میں تمہارا ساتھی ہوں گا اور وح۔شت میں تمہار اجی بہلاؤں گا اور آخرت میں تمہارے نیکیوں کا پلڑا بھاری کردوں گا ۔یہ بھائی اس کا عمل ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یارسول اللہﷺ یہ بہترین بھائی اور بہترین ساتھی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.