ایلوویرا جیل کے استعمال سے شوگر، وزن میںکمی سر اور چہرے کے 8 مسائل پر قابو پائیں، آزما کر خود دیکھ لیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ایلوویرا جیل میں امینو ایسڈ پائے جانے کے سبب اس کے استعمال سے جلد قدرتی طور پر موسچرائز رہتی ہے

اور جھریاں بننے کا عمل کمزور ہو جاتا ہے، ایلوویرا کا پودا قدرتی طور پر خشک ماحول میں بھی پڑوان چڑھ سکتا ہے، ایلوویرا کے پتے اوپر سے سخت جبکہ ان کے اندر جیل کی صورت میں پانی بھرا ہوا ہوتا ہے، پودے میں موجود امینو ایسڈ اور کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس مل کر جلد کے لیے ایک مفید ہائیڈریٹنگ ایجنٹ بناتے ہیں جس کے سبب ایلوویرا کے ا ستعمال جلد ہائیڈریٹڈ رہتی ہے ۔ چہرے کے دانے، داغ

دھبے، کالے گھیروں، ایکنی، بلیک ہیڈز، کلینزنگ، فیشل یہاں تک کہ برص کے نشانات کو ختم کرنے کے لئے بھی مفید ہے۔ بال گرنا، بال جھڑنا، خشکی وسکری، کمزور بال، خارش، دو شاخے بال غرضیکہ بالوں کے تمام مسائل میں ایلوویرا بہترین ٹانک ہے۔ ایلویرا میں موجود امینو ایسڈز، وٹامن اور منرلز ہمارا مدافعتی نظام مضبوط بناتے ہیں۔ روزانہ خالص ایلو ویرا جوس کا استعمال بہت کارآمد ہے۔ ایلویرا میں ایسے مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں جو وزن میں کمی کا باعث بنتے ہیں اور جسم سے فاضل مادوں کا اخراج کرتے ہیں۔ ایلویرا میں کولیگن کی بڑی مقدار جھریوں کے خاتمے کی وجہ بنتی ہے، لہٰذا اگر آپ کو جھریاں آگئی ہیں تو اس کا استعمال کریں، اس سے مکمل ختم نہیں ہوں گی تو قدرے کنٹرول ضرور ہوجائیں گی۔

ایلویرا معدے کی تیزابیت، گرمی اور منہ کے چھالوں سے بچاتا ہے، کیونکہ اس میں جراثیم کش خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کہ ہر طرح کے جراثیموں کا جسم سے اخراج کرنے میں معاون ہے۔کیڑا کاٹ جائے اگر جسم کے کسی حصے پر تو فوری ایلوویرا کا جیل لگا کر کپڑا باندھ لیں، اس سے زہر یا کسی بھی رطوبت کا جسم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جگر کی صفائی اور شوگر کے مرض میں ایلوویرا جیل نہایت کارآمد ہے، کیونکہ یہ خون میں شامل شوگر کو کنٹرول کرتا ہے اور جگر کے اندر بننے والے فاضل مادے کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ایلوویرا کے استعمال سے سورج کی شعاؤں سے بچا جا سکتا ہے، گھر سے باہر نکلنے سے پہلے اگر ایلوویرا جیل لگا کر میک کر لیا جائے تو ’سَن بلاک‘ یا ’ سَن اسکرین ‘ کی ضرورت نہیں پڑتی ہے، ایلوویرا جیل کا استعمال الٹرا وائلٹ ریز (یو وی ریز) سے بچاتا ہے۔ ایلوویرا جیل میک اپ سیٹنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس کے استعمال سے چہرے پر چکناہٹ بھی نہیں آتی اور نہ ہی اس کی کوئی بو ہے ۔صارفین سے گزارش ہے کہ یہ عام معلومات ہیں مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.