دعا کو جلدی قبول کروانے کا طریقہ

امام علی ؓ سے پوچھا گیا یا علی ؓ وہ کونسا عمل ہے جس عمل کے کرنے کے بعد دعا اللہ فورا قبول کرلیتا ہے

بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی ؓ نے فرمایا اے شخص اگر چاہتے ہو کہ تمہاری ہر مانگی ہوئی دعا اللہ کے دربار میں فورا پہنچ جائے قبول ہوجائے تو اپنے لئے دعامانگنے سے پہلے اپنے والدین کے لئے دعا مانگا کرو

کیونکہ میں نے اللہ کے رسول سے سنا جو انسان دعا مانگتے وقت پہلے اپنے والدین کے لئے دعا مانگ کر اور پھر اپنے لئے دعا مانگتا ہے تو اللہ اس دعا کوفورا قبول کردیتا ہے تو اس نے کہا یا علی اگر والدین حیات نہ ہوں تو امام علی ؓ نےفرمایا۔

تو اپنے والدین کی مغفرت کے لئے دعا مانگو میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جو اولاد اپنے والدین کی مغفرت کے لئے دعا مانگتی ہے یا ان کی زندگی میں ان کی خیریت کے لئے دعا مانگتی ہے اور پھر اپنے لئے دعا مانگ کر ہم محمد وآل محمد پر درود بھیجتی ہے

تو اللہ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ جاؤ اس میرے بندے کی وہ ساری دعائیں قبول کر دو جو اپنے والدین کی دعا مانگنے کے بعد اور میرے محبوب پر درود بھیجنے کے بیچ میں مانگی ہے اور یوں وہ ساری دعائیں فورا قبول ہوجاتی ہیں۔کیا والدین کے لئے دعا ترک کرنا قطع رزق کاسبب ہے ؟

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا، بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا پہلو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا ،

اے میرے رب! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میری بچپن میں پرورش کی ہے . اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ والدین کے لئے دعا کرنا احسان وسلوک میں سے ہے . اور جب والدین فوت ہوجائیں تو رفع درجات اور طلب مغفرت کے لئے بطور خاص دعا کرنا چاہئے .

اللہ تعالی کا فرمان ہے : رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب۔ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا. اللہ تعالی کا فرمان ہے : رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ اے میرے پروردگار! مجھے، میرے والدین اور سب ایمان والوں کو اس دن معاف فرمانا جس دن حساب لیا جائے گا.

حضرت جاہمہؓ، حضرت نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یارسول اللہ! میرا ارادہ ہے کہ میں آپﷺ کے ہمراہ جہاد میں شرکت کروں اور اسی لئے آیا ہوں کہ آپﷺ سے اس معاملہ میں مشورہ لوں۔ (فرمائیے، کیا حکم ہے؟) حضرت نبی کریمﷺ نے ان سے پوچھا۔ تمہاری والدہ (زندہ) ہیں؟

جاہمہؓ نے کہا، جی ہاں (زندہ ہیں)۔ حضرت نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا، تو پھر جائو اور انہیں کی خدمت میں لگے رہو کیونکہ جنت انہیں کے قدموں میں ہے۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Sharing is caring!

Comments are closed.