”دُکھوں اور مصیبتوں میں تین چیزیں ضرور کر نا؟ دُکھ میں کبھی ہمت مت ہا رنا۔ بہت ہی قیمتی اور سچی با تیں۔“

بہت سے کام نہیں بلکہ ایک ہی کام بہت سا کر نا چاہیے! میری کا میا بیوں سے مجھے مت رکھو مجھے پر کھنا ہے

تو اس سے پر کھو کہ کتنی بار میں نیچے گر کر پھر اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ انسان کا میاب ہونے کے لیے پیدا کیا گیا ہے مگر اپنی غفلت سے وہ اپنے آپ کو نا کام بنا لیتا ہے۔ چراغ آندھیروں میں روشنی تو کر سکتا ہے مگر اند ھوں کی بستی میں نہیں! آپ کمانے کی بجائے اگر جیب سے لگانے لگ گئے ہیں تو یہ شوق کا راستہ ہے اس راستے میں تقسیم کرنے والا کا میاب ہو تا ہے اور جمع کرنے والا محروم! انسان ہمیشہ تکلیف میں مبتلا ہو کر ہی سیکھتا ہے، خوشی میں تو وہ پچھلے سبق بھی بھول جا تا ہے! کاروباری پہلے ہدف بنا تا ہے

پھر اس ہدف کو حاصل کرتا ہے ملازم پہلے بجٹ بنا تا ہے پھر ہدف بنا تا ہے! سب جیسوں میں سب جیسا نہیں بننا۔ خود کو منفرد بنا ئیے، خیالات ، شخصیت اور عادات کے لحاظ سے! آسانیوں کی تلاش ضرور کیجئے، لیکن ان آسانیوں میں دوسروں کو بھی شریک کیجئے، اس طرح اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ آسانیوں میں ہی رکھے گا۔ جس طرح رات کے بعد دن نے خود بخود آ جا نا ہے اسی طرح آپ کی بے لوث خدمت کے بعد ما لک نے آپ نے اپنی رحمت سے ضرور نوازنا ہے دوسروں کو بے لوث دینا اللہ تعالیٰ سے شکر گزاری کی علامت بھی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *