عورت مرد سے زیادہ مضبوط ہوا کرتی ہے.

عورت مرد سے زیادہ مضبوط ہوا کرتی ہے. ہم مرد اسی غلط فہمی میں ساری عمر گزار دیتے ہیں کہ ہم کفالت کر رہے

اور ہم ہی ان کو پال رہے. مگر یہ بھول جاتے کہ پالنے والی تو اللہ کی زات ہے اور وہ عورت جو چراغ کے جن کی طرح ہر وقت حاضر رہتی وہ مجبوری میں نہیں وہ بے لوث محبت میں ہمارے لیے سب کر رہی ہوتی ہے۔

اسے کچھ نہیں چاہیے ہوتا ہے ماسوائے محبت اور دو میٹھے بول کےہسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا ضرور تھا میں مگر میری سوچوں کا محور اندر I. C. U میں لیٹی وہ عورت تھی جس کی کمی کو میں پچھلے 4 دن سے شدت سے محسوس کر رہا تھا. ہر رات میرا تین سال کا بیٹا میرے گلے لگ کر سوتا ہے اور مایوس سی آواز میں پوچھتا ہے کہ “بابا جی مما کدھر ہیں” میں اسکو تسلی دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوں مگر آواز گلے میں ہی کہیں دب جاتی ہے وہ مجھ سے سوال کا جواب نا پا کر خود ہی جواب دیتا ہے کہ “مما ہوشپٹل ہیں نا” اُن کو انجکشن لگا ہے. وہ ٹھیک ہو گی تو گھر آ جائیں گی نا. نا جانے کتنی دیر خود سے ہی باتیں کر کے میرے بازو میں لپٹ کر سو جاتا ہے اور نا جانے کب میری بھی آنکھ لگ جاتی ہے..صبح اُٹھ کر جب کپڑے پریس کر کے مجھے دیتی تھی تو ایک سیلوٹ پر بھی اس سے لڑائی کر لیتا تھا پھر وہ سارا دن فون پر منانے میں گزار دیتی تھی اب جو خود پریس کر کے پہنتا ہوں تو کئی جگہ سلوٹیں رہ جاتی ہیں. بے ترتیب سی شرٹ پر بھی اب غصہ نہیں آتا. کل ایسی ہی ایک شرٹ پہن کر چلا گیا اُس کے پاس وہ نیم آنکھیں کھولے آکسیجن ماسک لگائے مجھے دیکھ کر شرٹ کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلکی سی مسکرائی کہ جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ جناب آج میری باری لڑنے کی۔

اور میں ایک ہی پل میں سب سمجھ گیا اس کے بن کہے. اسکی فائل اُٹھا کر پڑھنے کے انداز میں سامنے کر لی کہ کہیں نم ہوتی آنکھیں وہ دیکھ نا لے.آزمائش کے مراحل نا جانے کب تمام ہوں گے. کل ہی اس کے سرہانے بیٹھا تھا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کپکپاتی آواز میں پوچھنے لگی “رافع” کا کیا حال ہے.. اسکو بتانا چاہتا تھا کہ وہ چار دن سے خود ہی صبح اُٹھ کر واش روم چلا جاتا ہے. نہیں کہتا کہ مما گودی میں اُٹھا کر لے کر جاؤ. وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ مما سکول نہیں جانا میری آئی اوپن نہیں ہو رہی. وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ مما مجھے کلاس میں بٹھا کر آؤ. چُپ چاپ سا رہتا ہے اب اور کھیلتا بھی کم ہے. کھانا تو جیسے چھوڑ ہی دیا. آج صبح بے خیالی میں اسنے آواز دی “مما” اور اگلے ہی پل خاموش ہوگیا مگر میں کچھ نہیں بتا سکا ماسوائے اس کے کہ “ہاں ٹھیک ہے وہ اور آجکل تمہاری غیر موجودگی میں اور بھی زیادہ شرارتی ہو گیا ہے”مگر یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ وہ ایک بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماں بھی ہے اور بخوبی وہ سب بھی سمجھ گئی جو میں نہیں کہہ سکا. آنکھوں کی بھی خاموش زبان ہوتی ہے اور یہ زبان ایک ماں، ایک بیوی ہی پڑھ اور سمجھ سکتی ہے۔

ہم جو مرد ہوتے ہیں نا بڑے انا پرست اور ضدی ہوتے ہیں. لڑنے کا ایک چھوٹا سا بہانا بھی بنا لیتے ہیں. مگر پیار جتانے کے معاملے میں اپنے ہی لفظوں کے کھیل میں اُلجھ کر خاموش ہو جاتے ہیں.وہ جو دن رات ایک کر کے ہمارے لیے ہر وقت “کیا حکم ہے میرے آقا” جیسے جن کی طرح حاضر رہتی ہے اور کئی کام تو بنا کہے ہی پورے کر دیتی ہے ہم اس کی قدر یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ بھئی کونسا کچھ انوکھا یا احسان کر رہی فرض ہے اسکا. جب کہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہم اسکا فرض نہیں. وہ محتاج نہیں ہماری اور عورت تو مرد سے زیادہ مضبوط ہوا کرتی ہے. ہم مرد اسی غلط فہمی میں ساری عمر گزار دیتے ہیں کہ ہم کفالت کر رہے اور ہم ہی ان کو پال رہے. مگر یہ بھول جاتے کہ پالنے والی تو اللہ کی زات ہے اور وہ عورت جو چراغ کے جن کی طرح ہر وقت حاضر رہتی وہ مجبوری میں نہیں وہ بے لوث محبت میں ہمارے لیے سب کر رہی ہوتی ہے. اسے کچھ نہیں چاہیے ہوتا ہے ماسوائے “محبت اور دو میٹھے بول کے” مگر مرد ہیں نا. جب تک مونچھوں کو تاؤ دے کر رعب نہیں جما دیں گے اور “دو لگا “نہیں دیں گے یا اونچی آواز میں بول نہیں لیں گے تو رعب اور دبدبا جھاگ نہیں ہو جائے گا بھلا. جب کہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اونچی آوازوں میں سب سے بدھی اور گندی آواز گدھے کی ہوا کرتی ہے.. اسلام میں عورت کو حقیر نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ماں ، بہن، بیوی اور بیٹی ہر روپ میں عزت اور محبت سے نوازا جاتا ہے.,اللہ سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین۔ پوسٹ کو شیئر ضرور کیا کریں تاکہ ہزاروں افراد مستفید ہو سکیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.