”لا الہ الا اللہ پڑھنے کی فضیلت جانئیے“

یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں

اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپ کی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔اللہ کے بندوں! کما حقہ اللہ سے ڈرو اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔مسلمانوں!مخلوق کیلیے شرف کا مقام ہے کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت اور اسی کی بندگی پر کار بند رہے، احکامات الہیہ اور تخلیق کی یہی حکمت ہے، اسی بندگی کی بنا پر دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی، فرمانِ باری تعالی ہے:اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ یقیناً بہت عظیم کامیابی پا گیا۔خوشی، سرور، لذت اور خوشگوار لمحات صرف اللہ تعالی کی معرفت، اسے ایک ماننے اور اس پر ایمان لانے میں ہے، افضل اور محبوب ترین کلام وہ ہے جس میں اس کی حمد و ثنا ہو، اور اللہ تعالی کی بہترین ثنا کلمہ توحید: لا الہ الا اللہ ہے۔اسی کلمے کی بنیاد پر آسمان و زمین قائم ہیں،

اسی کے لیے موجودات کو وجود دیا گیا، اللہ تعالی نے اپنی کتابیں بھی اسی کیلیے نازل کیں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا، فرمانِ باری تعالی ہے:اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ ” میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لہذا صرف میری ہی عبادت کرو “۔لا الہ الا اللہ کہنے والے کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جہاں سے چاہے داخل ہو جائے، بلکہ جو شخص سچے دل سے کلمہ پڑھے، اس کے مطابق عمل کرے تو اسے آگ نہیں چھوئے گی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی بھی شخص سچے دل کے ساتھ یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالی اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے)لا الہ الا اللہ کہنے والے کو اللہ تعالی جہنم سے ضرور باہر نکالے گا چاہے اس کے دل میں ذرے کے برابر ایمان ہو، حدیث قدسی ہے: (مجھے میرے جلال ، کبریائی اور عظمت کی قسم! جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا میں انہیں جہنم سے ضرور نکالوں گا)بندے کی زندگی میں کلمۂ توحید کی اہمیت کے پیش نظر شریعت نے کلمۂ توحید پر قائم رہنے کی ترغیب دلائی ؛چاہے حالات یا معاملات کسی بھی قسم کے ہوں، چنانچہ جو شخص صبح اور شام کے وقت لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ[اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کیلیے تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے] کہتا ہے تو اس کیلیے یہ کلمات اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے، اس کیلیے 10 نیکیاں لکھی جائیں گی ، اس کے 10گناہ مٹا دیے جائیں گے، اس کے 10درجات بلند کر دئیے جائیں گے، اور اس دن شام تک کیلیے شیطان سے حفاظت میں ہو گا، اور اگر وہ شام کے وقت کہے تو اس کیلیے صبح تک ایسا ہی اجر ہو گا).اور اگر وضو سے فراغت کے بعد کہے تو: اس کیلیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (کوئی بھی شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر کہے:أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ[میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں] تو اس کیلیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں وہ جہاں سے مرضی داخل ہو جائے).

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *