”میں اور میری بیوی یہ وظائف کرتے ہیں آپ بھی کر لو دولت بارش کی طرح برسے گی“

اگر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے

تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کو ایسے ایسے وظائف سکھائے ہیں جن میں پوری امت کے لئے سبق ہے کہ جب بھی کوئی مشکل ہو، مسئلہ درپیش ہو تو اللہ تعالی سے اعمال کے ذریعے اپنی مشکلات کو حل کروایا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کو تنگدستی دور کرنے کے لیے اور گھر میں خیر و برکت کرنے کے لئے تین باتوں کی تعلیم دی اور صحابہ کرام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ صحابی جھولیاں بھر بھر کر لوگوں میں مال تقسیم کیا کرتے تھے لیکن اس دور میں بھی جس نے ان کاموں کو یقینی کامل کے ساتھ کیا ہے اس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے فیض پایا ہے۔ایک مولانا صاحب اپنے بیان کے دوران اپنا قصہ یوں بیان فرماتے لگے میرے حالات کچھ اچھے نہ تھے، سرکار کی معمولی ملازمت کی جس سے مشکل سے گھر چلتا تھا ،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان میری نظر سے گزرا تو میں نے اس کو اپنا معمول بنا لیا ، ان کاموں کو کرنے سے اللہ کا ایسا کرم ہوا کہ اب تک تین سفرِ حج کر چکا ہوں اور تقریباً 20 مرتبہ روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری بھی دے چکا ہوں، آپ خود ہی سوچ لیں کے سرکار کی ملازمت اور محدود تنخواہ ہو تو اس سے بندہ حج عمرے کا کہاں سوچ سکتا ہے لیکن ان کاموں کی برکات کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا اور اللہ کے مجھ پر بڑے کرم ہیں

۔اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ بہت ہی مبارک ہے جس نے بھی ان پر یقین کامل کے ساتھ عمل کیا ہے اس نے ضرور اپنی مراد پائی ہے ،یہ بہت ہی آسان ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ عمل پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم کردا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ پر بھی مال و دولت کی فراوانی ہو رزق آپ پر بارش کی طرح برسے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس ایسی دولت ہو کہ آپ لوگوں میں بھی تقسیم کرتے پھریں تو پھر آقا ئے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا یہ وظیفہ لازمی کریں اس کو اپنا معمول بنا لیں اور اس کی برکات ملاحظہ کرتے جائیں۔ایک شخص نے دارالسلطنت صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگدستی اور فقر کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کی صدا بلند کرتے ہوئے داخل ہوا کرو خوا کوئی آدمی گھر میں موجود ہو یا نہ ہو، پھر اس کے فورا ًبعد سورۃ اخلاص ایک دفعہ پڑھا کرو، ایسا کرنے سے اللہ کی جانب سے تیرے اوپر رزق کے دروازے کھل جائیں گے ۔اس شخص نے ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا چند ہی دنوں میں اس کی حالت بدل گئی اور اپنے پڑوسیوں کی مدد کرنے لگا

۔یہ بڑا کامیاب اور آزمودہ عمل ہے۔اس بارے میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر فقر و فاقے اور تنگی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو خوا وہاں کوئی موجود ہو یا نہ ہو اور پھر مجھ پر سلام پیش کرو یعنی درود پاک پڑھو اور ایک بار سورہ اخلاص پڑھ لو، چنانچہ اس شخص نے یہ ہی کیا تو اللہ تعالی نے اس پر رزق کی بارش فرما دی حتیٰ کہ اس عمل نے اس کے پڑوسیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی فیض یاب کیا ۔اس حدیث کی روشنی میں تین کام یہ ہیں جب گھر میں داخل ہو تو ایک بار بلند آواز میں سلام کریں اس کے بعد ایک بار کوئی سا بھی درود پاک پڑھیں چاہے مختصراً ہی کیوں نہ ہواس کے بعد ایک بار سورہ اخلاص پڑھ لیںاس عمل کو اپنا معمول بنا لیں انشاءاللہ رزق کی فراوانی ہوگی۔ کتنا آسان عمل ہے اس پر عمل ضرور کریں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ گھر میں داخل ہونے کے بعد یہ کام کرنا بھول جاتے ہیں تو ان کے لیے عرض کرتے چلیں کہ اگر آپ بھول جائیں اور بعد میں آپ کو یاد آئے کہ یہ تین کام بھول چکے ہیں تو ایسا کریں کہ اسی وقت دوبارہ سے باہر جائیں اور پھر گھر میں داخل ہوں اور یہ تین کام کریں۔ تین چار بار جب آپ ایسا کریں گے تو اس کے بعد آپ یہ کام نہیں بھولیں گے ۔اس کے علاوہ اس عمل کو یاد کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس عمل کے بارے میں ہر کسی کو بتاتے رہا کریں جتنا بھی کسی کی بھلائی کرتے جائیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کا بھلا ہوگا ۔

یہ عمل بہت ہی آسان اور پیارا ہے اس کو اپنا معمول بنائیں، اس عمل سے آپ کو خیر و برکت اور مال و دولت کی فروانی تو انشاءاللہ ضرور ملے گی لیکن ساتھ میں دس نیکیاں سلام کرنے کی ،بیس نیکیاں درودِ پاک پڑھنے کی اور ساتھ میں سورۃ اخلاص کی تلاوت کی نیکیاں یہ سب مفت میں۔آخر میں آپ کو سورۃ الاخلاص کی فضیلت بتاتے ہیں جو حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ سب جمع ہو جاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن سناؤں گا، جو جمع ہو سکتے تھے جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سورۃ اخلاص کی تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو سورۃ الاخلاص ،سوارۃ الناس اور سورۃ الفلق پڑھ کر اپنی دونوں ہتھیلیوں پرپھونک مار کر سر اور چہرے سے شروع کر کے اپنے جسم پر جہاں تک ہاتھ جاتا ہے اس پر تین بار ہاتھ پھیرتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تو وہ اپنے لشکروالوں کو ہر رکعت میں قل ھواللہ احد پڑھاتا ، جب وہ واپس پلٹے تو انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اس سے پوچھو کہ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے ،جب انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا ہے اس لیے کہ یہ رحمٰن کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے کہ اسے بتا دو کہ اللہ تعالی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی سمجھ نصیب فرمائے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *