پرندوں کو پنجرے میں قید کرنے سے پہلے یہ فرمان ضرور سن لیجئے!

قارئین ہمارے معاشرے میں کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں پرندے اور جانور پالنے کا شوق جنون کی حد تک ہوتا ہے

جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک پیسہ خرچ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ پرندوں کو پنجرے میں قید کرنے یا پالنے کو گناہ بھی سمجھتے ہیں تو آج کی تحریر میں اسی حوالے سی شریعت مطہرہ کی روشنی میں یہ بتائیں گے کہ پرندوں کو پالنا پنجرے میں قید کرنا کیسا ہے اور ان کے پر وغیرہ بھی کاٹے جاتے ہیں یہ کیسا ہے اور ا ن کا کاروبار کرنا کیسا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی حقیقت کو بھی واضح کریں گے کہ آیا ا گر گھروں میں اگر پرندوں کو پالا جائے تو کیا وہ بددعا بھی دیتے ہیں یا نہیں یہ سب سوالا پرندوں کے شوقین لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے رہتے ہیں ۔

پرندوں کو رکھنے اور اس کو پالنے کے بارے میں ایک حدیث ملتی ہے حضرت انس بن مالک ؓ کا والدہ کی طرف سے بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا اس کے پاس نغیر نامی ایک پرندہ تھا کہ جو مرگیا تھا اور وہ بچہ اس پر بہت غمگین ہوا تورسول کریم ﷺ اس سے یہ کہہ کر ہنسی مذاق کیا کرتے تھے کہ اے ابو عمیر نغیر نے کیا کیا نغیر ایک چھوٹا سا پرندہ ہے جو چڑیا کے مشابہہ ہے اور بعض نے اسے بلبل کہا ہے اس حدیث سے پرندے پال کر رکھنے پر استد لال کیا گیا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ابو عمیر ؓ کو اس سے منع نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کا انکار کیا اس حدیث سے پرندے کو پنجرہ وغیرہ میں بند کر نے کے جواز پر دلیل ملتی ہے کہ پرندے کو رکھنے والے پر واجب ہے کہ وہ اس کے کھانے وغیرہ کاخصوصی اہتمام کرے تو جب پرندوں کو پالنا جا ئز ہے تو اس کا کاروبار بھی جائز ہے۔

لیکن شرط یہ ہے کہ ان جانوروں کے حقوق کا خیال رکھاجائے اور ان کی حق تلفی نہ کی جائے کیونکہ ان کو خوراک مہیا نہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک عورت صرف اس لئے جہنم میں چلی گئی کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی لیکن اس کو نا توکھانا کھلایا اور نہ ہی اسے زمین میں کھلا چھوڑ دیا کہ وہ حشرات الارض سے پیٹ بھر لے لہذا پرندے پالنے اور ان کے کاروبار کرنے کے لئے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ان کی حق تلفی نہ کی جائے۔ اولین کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ان کو مانوس کیاجائے تا کہ ان کو قید کرنے کی ضرورت نہ پڑے اگر بالفرض قید کرنا بھی پڑے تو ان کی رہائش کا بہتر سے بہتر بندوبست کیا جائے تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔ان پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے ۔ بیمار ہونے کی صورت میں ان کا مکمل علاج معالجہ کیا جائے۔

تمام تر سہولیات کے باوجود اگر کسی شخص کی ملکیت میں کوئی پرندہ مر جائے تو وہ شخص گناہگار نہیں ہوگا کیونکہ اس نے پرندے پر کسی قسم کا ستم نہیں کیا تھا اسی طرح محترم قارئین جو حدیث درج کی گئی ہے اس حوالے سے حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح میں مزید فوائد کا یوں تذکرہ فرمایا ہے کہ اس حدیث کے اندر بچے کا پرندے کے ساتھ کھیلنے کا جواز بھی پایا جاتا ہے اور والدین کے اپنے بچے کو جائز چیز کے ساتھ کھیلنے کے لئے چھوڑ نے کا بھی اس میں جواز موجود ہے اور بچوں کو بہلانے لئے مباح چیزوں پر مال خرچ کرنے کا جوا ز بھی پایا جاتا ہے اور پرندے وغیرہ کو پنجرے میں بند کرنے کا بھی جواز ملتا ہے اور اسی کے ساتھ پرندے کے پر کاٹنے کا جواز اسی حدیث سے ملتا ہے۔

کیونکہ ابو عمیر کا پرندہ ان دونوں میں سے خالی نہیں ہوسکتا ایک چیز تو لازم ہوگی لیکن بعض اہل علم اس کو تربیت کے لئے باندھنے کو مکروہ کہتے ہیں۔ اور بعض نے اسے بالکل منع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آوازیں سننا اور انہیں دیکھ کر خوش ہونے کی آدمی کو ویسے بھی کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ تو اکڑ اور شر اور عیش پرستی ہے اور پھر یہ بیوقوفی بھی ہے کیونکہ اس پرندے کی آواز پر خوش ہورہاہے کہ جس کی آواز اڑان بھرنے پر غمگین ہے اور وہ فضا میں جانے کا افسوس بھی کررہا ہے ۔پرندوں کو اگر پنجرے میں رکھا جائے تو وہ بددعا دیتے ہیں اس قسم کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے لہٰذا یہ باتیں بھی اپنی من گھڑت اور لوگوں کی بنائی ہوئی ہیں۔شکریہ

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *