”کمر درد کانہایت آسان علاج صرف دو چیزوں کی مدد سے“

جوانی اور بڑھاپے میں یکسر پایا جانے والا کمر درد ہر کسی کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔

تاہم بعض اوقات سرجری کو اسکا حل قرار دیا جاتا ہے مگر ایسے شدید طرز علاج کی طرف رجوع کرنے سے پہلے چند گھریلو سطح پر تدابیر کو زندگی میں شامل کر کے ضرور دیکھنا چاہیے۔ کمر درد کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں کوئی چوٹ، ابتذالی ڈسک، آرتھرائیٹس، پھسلی ہوئی ڈسک یا کوئی بھی ہڈیوں کا مسئلہ شامل ہیں۔ بسا اوقات یہ درد غلط انداز میں سونے، ذیادہ دیر تک بیٹھے رہنے یا کاندھوں پہ بیگ پہنے رکھنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ اس درد سے محض اپنا انداز بدلنے سے ہی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر کمر درد کسی بیماری کی وجہ سے ہے تب علاج اتنا آسان نہیں۔ لہذا درد کو بہتر کرنے اور طرز زندگی درست کرنے کے قدرتی طریقے ضرور آزمانے چاہییں۔ یہ بات یاد رہے کہ اگر آپ کا کمر درد کسی بیماری کی وجہ سے ہے تو اس کا علاج دیرینہ مدت تک بھی چل سکتا ہے۔ اگر کسی طرز علاج سے آپ فائدہ محسوس کرنے لگیں تو اسے فورا سے ترک نہیں کر دینا چاہئے بلکہ استقامت اس علاج کو مزید دیرپا بنا دیتی ہے۔ ہمارا جسم ایک ایسی چیز ہے

جس کا خیال ہمیں محدود مدت نہیں بلکہ تا حیات رکھنا ہے لہذا ایک بہتر طرز زندگی کیلئے ورزش اور اچھی خوراک کو اپنی روٹین کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ کمر درد کو بہتر کرنے کے طریقے:سب سے قبل اپنے کمر درد کے بارے میں اپنے معالج سے مشاورت بے حد ضروری ہے تاکہ کمر درد کی اصل وجہ پتہ چل سکے۔ کمر اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا لازمی ہے کیونکہ ایک ڈاکٹر ہی کسی ٹھوس وجہ کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ لہذا مندرجہ ذیل طریقے اپنانے سے قبل ماہرین صحت سے مشورہ لازمی کریں۔ ایک دفعہ صحیح تشخیص کے بعد آپ کا معالج آپکو درد کو کم کرنے کیلئے بہت سے قدرتی طریقے بتا سکتا ہے۔ اکثر ایک فیزیوتھراپسٹ کافی مفید ورزش کے طریقے بتا دیتا ہے جو انسان بآسانی گھر میں بذات خود بھی کر سکتا ہے۔ فزیوتھراپی ابتدائی درد کو بہتر کرنے کے لیے انتہائی پر اثر ہے۔اسکے علاوہ چست اور تندہی کو بڑھانے والی سرگرمیوں کی زندگی میں شمولیت ایک اور بہترین نجات دہندہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسی ورزش کا انتخاب بہت ضروری ہے جس سے کمر پر ذیادہ زور نہ پڑے تا کہ چوٹ مزید سنگین نہ ہو پائے۔ لہذا فیزیوتھراپسٹ سے مشاورت انتہائی اہم ہے۔

ورزش سے پہلے اور بعد میں رہنے والے درد کو بہتر کرنے کے لیے برف یا کسی گرم چیز کی ٹکور بھی کافی کارآمد ہے۔ اکثر اوقات ورزش سے پہلے گرم چیز کی ٹکور پٹھوں کو گرمائش پہنچا کر مزید لچک دار بنا دیتی ہے اور ورزش کے بعد برف کی ٹکور اس کے بعد ہونے والی انفلیمیشن کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ علاوہ ازیں سٹریچنگ بھی ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ ہونا چاہئے قطع نظر اس کے کہ آپ ورزش کر رہے ہیں یا نہیں کیونکہ یہ کمر درد میں واضح کمی لا سکتی ہے اور اسکو مضبوطی بھی بخشتی ہے۔ سونے کی پوزیشن اور اپنی عام وضع قطع بدلنے سے بھی نا قابل یقین حد تک فرق پڑ سکتا ہے۔ مساج، کائیروپریکٹر یا الیکٹرو۔سٹیمولیشن بھی چند قدرتی طرز علاج ہیں جن کے باعث بہت سے افراد کو بہتری محسوس ہوئی ہے۔ اگر آپ کے قریب یہ سہولیات موجود ہیں تو ان کو ضرور ملحوظ خاطر رکھیں۔ اگر ان سب کو اپنانے کے باوجود بھی آپکو کوئی فرق نہیں پڑا تو اپنے فزیشن سے رجوع کریں۔ کسی بھی درد کے دیرینہ علاج میں پین کلرز بالخصوص اوپیاوئڈز اپنے مضر اثرات کے باعث سب سے آخری لائحہ عمل ہونے چاہییں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *