”یا رحیم ماہ صفر میں چلے پھرتے پڑھنے سے“

ماہ صفر کا آغاز ہوچکاہے۔ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہےجس کے لفظی معنی خالی ہونا ہے۔

عرب زمانے جاہلیت میں اس ماہ کو منحوس تصور کیا جاتا تھا۔ اس مصیبتوں کا مہینہ قرار دیا جاتا تھا۔ حقیقت میں نہ تو اس مہینے میں نحوست اور مصیبت ہے۔ اور نہ ہی اس مہینے میں بدبختی ، بھوت، فریب کا مہینہ ہے۔ بلکہ انسان اپنے اعمال کی وجہ سے مصائب اور آفات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور جہالت کی وجہ سے دن مہینے اور دیگر اسباب کو منحوس تصور کرنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

چھونےسے بیماری دوسرے کو لگ جانا یہ عقیدہ رکھ لینا۔ ماہ صفر میں نحوست میں عقیدہ رکھ لینا، پرندوں سے بدشگونی کا عقیدہ رکھ لینا ۔ یہ سب باتیں بےبنیاد ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔ ماہ صفر میں بلائیں اور آفات اترنے اور جنات کے نزول کاعقیدہ یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں۔ اللہ کی تقدیر و تاثیر میں زمانے کا کوئی دخل نہیں۔ اس لیے ماہ صفر میں دیگر مہینوں کی طرح ایک مہینہ ہے۔ آپ یہ عقیدہ بنالیں۔

اگر کو ئی شخص کسی بھی مہینے میں چاہے وہ رمضان کا ہے، چاہے وہ شعبان کا ہے، چاہے وہ صفر کا ہے۔ کوئی بھی مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں احکام شرعی کا وہ پابند رہتا ہے۔ ذکر و اذکار کرتا ہے۔ حلال اور ح رام کی تمیز کرتا ہے۔ نیکیاں کرتا ہے۔ گن اہوں سے بچتا ہے۔ اوروہ مہینہ یقیناً اس کےلیے مبارک ہوتا ہے۔ اس کےبرعکس کوئی شخص کسی مہینےمیں گن اہ کرتا ہے۔ جائز حلال اور ح رام کی تمیز کو مٹا دیتا ہے۔ اور حقو ق اللہ کو مٹا دیتا ہے۔ تو اس کےلیے گن اہوں کی نحوست ہی کافی ہوجاتی ہے۔ اور وہ اپنی شامت اور اپنے اعمال کو ماہ صفر میں ڈالنا نری جہالت ہے۔ تو اس لیے اس مہینے میں ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ ذکر واذکا رکریں۔ جو اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو سکھائےتھے۔ اب آپ کو عمل کےبارے میں بتاتے ہیں کہ آپ نے اللہ کے یہ دو اسمائے مبار ک ” یارحمن ، یا رحیم ” کو ایک سو گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے۔ آپ چاہیں تو ایک سو گیارہ مرتبہ کی بجائے ستر مرتبہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس وظیفے کو آپ نے چالیس دن تک کرنا ہے۔ اور ناغہ نہیں کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *