”احتلا م کیوں ہوتاہے ، کثرت احتلام کا علاج“

آج ہم احتلا م پر بات کریں گے ۔ یہ شکایت ان نوجوانوں کو ہوجاتی ہے۔

جنہوں نے کچی عمر میں اپنے ہاتھ سے یا دیگر طور پر منی کے سنبھالنے کوضرب پہنچائی ہوئی ہے۔ اور اپنا منی ضائع کیاہو۔ جن کے خیالا ت گندے رہتےہیں۔ اور رات کو گندے ہی خواب آتے ہو۔

جن کو بیماری کی حالت میں گرم ادویات ملنے کی وجہ سے منی کو سنبھالنے اور روکنےوالے اعضاء میں نقص آگیا ہو۔ گ وشت ،انڈہ ، مچھلی اور پستہ وغیرہ محرک غذائیت استعمال کرتے رہے ہوں۔ یا نیند بھر کر سوتے ہوں۔ یا رات کو پیشاب آنے پر سستی کےمارے پڑے رہتے ہوں۔ احتلام چاہے کتنے ہی لمبے وقفے کے بعد ہو۔ برا ہے۔ تاہم مہینے میں ایک دوبار ہوجانا بہت تشویش ناک نہیں۔ لیکن ان سے زیادہ ہو۔ تو ان ہدایات سے فیض حاصل کریں۔ دودھ کا استعمال احتلام میں غیر مفید رہتا ہے۔ اگر عادت ہو اور ساتھ ہی پختہ تجربہ ہو

کہ دود ھ کا کوئی خراب اثر نہیں پڑتا۔ تو تھوڑا سا استعمال کریں۔ سور ج غروب ہونے کے بعد دودھ نہیں پینا چاہیے۔ دودھ کے بجائے مکھن کا استعما ل کریں۔ پانی سورج اترنے کےبعد کم ازکم پئیں۔ رات کو پیشاب کرکے پیر اور عضو تناسل اور خصیے ٹھنڈ ے پانی سے دھو کرسوئیں ۔ صبح کے وقت کمر کے نچلے حصے پر اور عضو پر ٹھنڈا پانی ڈالیں۔

پیٹ نرم رکھیں ۔ ماش کی دال ، خشک آلو، مٹھائی اور لال مرچ کم سے کم کھائیں ۔ یا تو نہ کھائیں ۔ خورا ک ہلکی اور زدو ہضم ہو۔ تازہ سبزیاں ، سا گ ،شلجم ، گھی ، مکھن ، روٹی ، چاول اچھے ہیں۔ گ وشت ، انڈہ ، بینگن وغیرہ کم گرم اور بھاری اشیاء کھٹائی ، تیل ، پیاز سے قطعی پرہیز کریں۔ چائے کا استعمال نہ کریں۔ خیالا ت بہت پاک رکھیں۔ جہاں کوئی بھی شہوت کرنے والی بات ہو وہاں سے اٹھ جائیں۔ سینما۔

تھیڑ نہ جائیں۔ ناول نہ پڑھیں۔ا حتلا م کے مریضوں کو عضو پر لگانے والا لیپ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ احتلام عام طور پر تین چار بجے رات کو ہوتاہے۔ یعنی انسان اتنی نیند لے چکا ہو۔ جتنی کہ ضروری ہوتی ہے۔ کم سے کم سونا چاہیے ۔ اور سردیوں میں سات گھنٹے سے زیادہ نہ سونا چاہیے۔ قبض نہ ہونے دیں۔

قبض کی شکایت ہو تو گل قند مربہ یا دیگر نرم قبض کشاء دوائی سے پیٹ نرم کریں۔ چھلکا اسپغول بھی مفید ہے۔ ثناء دو حصے ، پھول گلا ب کا ایک حصہ اور کھانڈ چھ ماشے ملا کر رکھ لیں۔ رات کو ایک یا دو ماشہ برائے دفعیہ قبض استعمال کریں۔ پیٹ کےکیڑے اکثر احتلام کا باعث ہوتے ہیں۔ اس دوائی سے خارج ہوجاتے ہیں۔ رات کو کسی وقت پیشاب یا پاخانے کی حاجت ہو تو سستی نہ کریں۔

سپار ی کے گرد میل اکثر نہ ہونے پائے ۔ پر دہ پوری طرح پیچھے کو الٹ کر دوسر ے تیسرے روز دھو لیا کریں۔ بائیسکل کی سواری نہ کریں۔ اگر کرنی پڑے تو آہستہ آہستہ چلائیں۔ ورز ش روزانہ کرنی چاہیے ۔ رات کو سوتے وقت عضو کےاوپر ٹھنڈا پانی دو سے تین مرتبہ ڈالیں۔ جماع کی قطعاً ممانعت ہے۔ احتلام کے نقصان کو پوراکرنے کےلیے ، زیادہ طاقت بخش دوا نہیں کھانی چاہیے ۔ اس سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ پیٹ کو زیادہ نہ بھریں۔ رات کا کھانا سور ج غروب ہوتے ہی کھا لیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *