”ان علامات سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے!“

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! انسانی تاریخ میں ایسے ہزاروں واقعات ملتے ہیں کہ جن میں انسانی آنکھ کی تخریبی یا منفی اثرات کا ذکر ملتا ہے

یہ واقعات کچھ داستانوں اور کچھ حقائق پر مبنی ہیں انسانی آنکھ سے خارج ہونے والی منفی قوت یا منفی شعاعوں میں یہ اثر ہے کہ وہ کسی کی زندگی میں بہت مشکلات لانے کا سبب بنتی ہیں

انسانی آنکھ سے جب یہ منفی قوت خارج ہوتی ہے تو اسے عام اصطلاح میں نظر بد کہا جاتا ہے نظربد کی وجہ سے کوئی بھی انسان بیمار پڑ سکتا ہے اور ایک خوش قسمت ترین انسان دنیا کے بدقسمت انسانوں میں شامل ہوجاتا ہے ۔آج کی اس تحریر میں نظر بد کی وہ خطرناک ترین علامات بیان کی جائیں گی کہ جن کی وجہ سے موت بھی واقع ہوجاتی ہے اور جب ایسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو اس کا فوری علاج نیچے بتایا جائے گا جس کے کرنے سے صرف چند گھنٹوں میں گہری سے گہری نظر بد سے بچاجاسکتا ہے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے :اور بالکل قریب تھا کہ کافر آپ کو ان کی نظروں کے ساتھ پھسلا دیں جب انہوں نے یہ ذکر (قرآن کریم)سنا۔اس آیت شریفہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ خبر سنائی گئی ہے کہ انسان کی نظر میں ایسی تاثیر ہوتی ہے کہ جو کسی دوسرے انسان کے جسم و جان پر اثر انداز ہوتی ہے اور تو اور اللہ کے رسول علیہ السلام پر اس کا اثر ہوسکنے کی گنجائش تھی اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ مذکورہ بالا فرمان ارشاد نہ فرماتا اور اللہ عزوجل اپنے نبی یعقوب علیہ السلام کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ان کا یہ قول بھی ذکر فرمایا :اور یعقوب علیہ السلام نے کہا اے میرے بیٹو ایک دروازے میں سے داخل مت ہونا بلکہ مختلف دروازوں میں سے داخل ہونا اور یہ سب احتیاط کے طور پر ہے کیونکہ میں اللہ کے حکم اور مشیئت کے سامنے تم لوگوں کے لئے کسی چیز سے بچاؤ نہیں رکھ سکتا یقینا حکم اللہ کا ہے اور میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی پر ایمان لانے والے توکل کرتے ہیں اس آیت شریفہ کی تفسیر میں امام ابن کثیر نے لکھا ابن عباس اور محمد بن کعب اور مجاہد اور ضحاک اور قتادہ کچھ اور لوگوں نے بھی مزید یہ کہاکہ یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کو نظرلگنے سے خوفزدہ ہوگئے تھے۔

کیونکہ وہ بیٹے خوبصورت اور اچھے حلیئے والے اور خوش منظر تھے لہٰذا یعقوب علیہ السلام اس بات سے ڈرے کہ کہیں لوگ انہیں نظر بد سے نقصان نہ پہنچا دیں۔کیونکہ نظر لگنا حق ہے جو کہ کسی ماہر گھڑ سواروں کو اس کے گھوڑے سے گرا دیتی ہے پس کسی ایمان والے کے لئے یہ گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اپنی کم علمی جہالت یامادی علوم یا خودساختہ سوچوں کی ڈسی ہوئی عقل کو کسوٹی بنا کر اللہ کے کلام کی باطل تاویلات کرے یا اللہ کے رسول محمدﷺ کی صحیح ثابت شدہ سنت شریفہ کا انکار کر بیٹھے یا اس کے بارے میں وہ فضول باتیں کریں اللہ کے فرمان شریف کے بعد ہم اللہ کے ارسال کردہ ان خبروں کو پڑھتے او رسمجھتے ہیں جو اللہ نے اپنے رسول محمدﷺ کی زبان مبارک سے ادا کروائی حضور اکرم ﷺ نے اس نظر کے بارے میں فرمایا کہ نظر لگنا برحق ہے اور شیطان اس وقت موجود ہوتا ہے اور انسان حسد کرتا ہے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نظر بد کے خاتمے کے لئے نبی ﷺ نے معوذتین پڑھنے کی ہدایت کی اسی طرح بخاری میں ہمیں ام المومنین ام سلمہ سے بھی یہ روایت ملتی ہے کہ ایک لڑکی کے چہرے پر کالے نشان تھے جب نبی ﷺ نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ یہ نظر بد کا شکار ہے اس پر دم کروا دو تا کہ اس سے نظر بد کے اثرات ختم ہوجائیں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نظر بد حقیقت ہے اب حقیقت سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا کہ نظر کا لگنا بالکل حق ہے اب آپ کو وہ علامات بتائیں گی۔

کہ جن کی وجہ سے انسانی موت بھی واقع ہوسکتی ہے اور اس سے بچاؤ کا طریقہ کار بھی بتایا جائے گا کہ آپ کو یہ علامات ظاہر ہوں تو چند گھنٹوں میں ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے ۔نظر کسی کے حسد کی وجہ سے لگتی ہے یا پھر تعجب کی وجہ سے ۔یادرہے تعجب کی نظر ماں باپ کی بھی لگ جاتی ہے یعنی والدین بھی اگر بچوں کو دعا نہ دیں تو بچے ان کی نظر کے بھی شکار ہوجاتے ہیں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ریاض میں ایک پروگرام میں ایک عراقی نے ہمیں بتایا کہ وہ ایسے گھرانے کو جانتا ہے کہ جن کا بچہ والدہ کا دودھ بہت پیتا تھا ایک دن اس کے باپ نے کہا کہ یہ تو ہر وقت ماں ہی کی گود میں چڑھا رہتا ہے چھوڑتا ہی نہیں ہے اسی لمحے بچہ ساقط ہوگیا ہسپتال گئے لیکن بچہ کچھ دیر بعد فوت ہوگیا اور اس بچے کی ماں کا علاج کرتے ہوئے تین ماہ ہوچکے تھے جن لوگوں کی نظر لگتی ہے عموماوہ معاشرے میں معروف ہوتے ہیں کہ فلاں کی نظر لگ جاتی ہے یا دوسری علامت یہ ہے کہ جن کی نظر لگی ہوتی ہے ان کو دیکھ کر انسان کی طبیعت عموما خراب ہوتی ہے غصہ چڑ چڑا پن عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے جب بھی انسان کسی کو دیکھتا ہے خواب میں جو صرف ٹکٹکی باندھکر اسے دیکھ رہا ہوتا ہے کہتا کرتا کچھ نہیں ہے یہ نظر اور حسد کی وہ علامات ہیں۔

جو انسان کو موت اور تباہی کی طرف لے کر چلی جاتی ہیں ۔قارئین ہم ان علامات کے بارے میں بتارہے ہیں کہ جن کا احادیث میں کوئی ذکر تو نہیں لیکن یہ نشانیاں اولیائے کرم نے اپنی کتابوں میں بتائی ہیں جو نظر بد کا علاج کرتے ہیں نظر بد کی نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی درد کا آنکھوں اور کن پٹیوں سے شروع ہو کر سر کی جانب پھیلنا اور پھر کندھوں سے اترتے ہوئے ہاتھ پاؤں کے کناروں میں پھیل جانا اور دوسری نشانی جسم پر عموما چہرے کمر رانوں میں سرخ نیلے دانوں کا بکثرت نکلنا دھبے بننا وغیرہ تیسری نشانی بکثرت پیشاب کا آنا اور قضائے حاجت کے لئے جانا چوتھی نشانی بہت زیادہ پسینہ آنا خصوصا ماتھے اور کمر پر پانچویں نشانی دل کی دھڑکن کا کم یا زیادہ ہونا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہونا اور موت کا خوف چھٹی نشانی چہرے کا زردی مائل ہوجانا۔

ساتویں نشانی تلاوت نماز اور دم کے درمیان بکثرت جمائی آنا اور آنسوؤں کا بہنا آٹھویں نشانی پڑھائی اور کام سے دل کا اُچاٹ ہوجانا حافظے کاکمزو رہونا اور بے توجہی رہنا نویں نشانی مسلسل تھوک بہنا جھاگ کی مانند بالکل سفید بلغم دسویں نشانی سوتے میں یا دم کے درمیان آنکھیں دیکھنا کہ کسی کو ٹکٹکی باندھ کر اپنی طرف دیکھنا اور گیارہویں نشانی جسم میں خارش اور چیونٹیاں رینگتی محسوس کرنا بارہویں نشانی آنکھوں کا شدت سے پھڑپھڑانا اور تیرہویں نشانی ہاتھ اور پاؤں کے کناروں میں سوئیاں چبھنا اور ٹھنڈا رہنا یہ ساری نشانیاں جب انسان کو ظاہر ہوجائیں توسمجھ جائیں کہ خطر ناک نظر لگ چکی ہے اور یہ ظاہر ہونے کے ساتھ ہی اپنا فوری علاج کروا لیجئے ورنہ یہ بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں اگر یہ تمام علامات ظاہر ہوجائیں تو ان کو ختم کرنے کے لئے صبح اور شام تین تین بار سورہ فلق اور سورہ ناس پر کر اپنے اوپر دم کرتے رہئے انشاء اللہ اس عمل سے نظر بد فوری طور پر ختم ہو جائےگی ۔شکریہ

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *