خون دینا فائد ہ مند ہے یا نقصان دہ خون دینے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے

اللہ تعالیٰ نے بنی آدم یعنی انسان کو مکرم بنایا ہے اوراس کو دوسری مخلوقات پر فضیلت وبرتری عطا کی ہے۔

اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بجمیع اجزائہہ محترم رہے اس کے کسی جز کے ساتھ ایسا تصرف نہ کیا جائے جو تکریم انسانی کے خلاف ہو اور جس سے اس کی توہین وتذلیل ہوتی ہو، خ ون بھی انسانی بدن کا ایک جزء ہے اور اجزائے انسانی سے انتفاع ناجائز ہے۔

بنابریں عام حالات میں خ ون عطیہ کرنے کی اجازت نہیں، ہاں اگر کوئی مریض اضطراری حالت سے دوچار ہو اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خ ون دیئے بغیر اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو ایسی شدید مجبوری اور اضطراری حالت میں کوئی شخص اس جذبے سے خ ون دیدے کہ اس کی زندگی بچ جائے گی تو شرعاً یہ جائز ہے اور حسن نیت کی وجہ سے ثواب کی بھی امید ہے؛ لیکن اس کے ثواب کو بہت زیادہ بڑھا چڑھاکر پیش کرنا محتاجِ دلیل ہے ہمیں اس کی صراحت نہیں ملی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی اگر کسی انسان کو خ ون کی ضرورت ہے تو لازمی دینا چاہیے کیونکہ یہ ایک انسان کا دوسرے انسان پر حق ہے اگر اس کو کسی وجہ سے اس کا خ ون کم ہوگیا ہے

اس کے اندر کوئی ایسی بیماری آگئی ہے یا چوٹ لگ گئی ہے جس کیوجہ سے اس کی ب لی ڈ ن گ ہوگئی ہے ایک بھائی کو دوسرے بھائی کو خ ون دینا چاہیے ۔جو انسان اپنا خ ون دیتا ہے وہ دو دون کے اندر اندر پورا ہوجاتا ہے اس کے چند فوائد یہ ہیں آپ کے جسم کے جو خ ون سات لیٹر چل رہا ہے اس میں سے پانچ سو ملی لیٹر یا ہزار ملی لیٹر دے دیا اس کی جگہ جو نیا خ ون آئیگا وہ طاقتور ہوگا ۔جب گندے تیل میں سے ایک لیٹر تیل نکا کر نیا تیل ڈال دو تو وہ انجن کی کارکردگی کو بڑھائے یا گھٹائے ۔ خ ون کو دوسرے انسان کو دینا چاہیے اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ کے جسم میں نیا خ ون بنے گا تووہ پرانے خ ون کو بھی تکویت دینے والا بن جائیگا ۔جو ایک دفعہ خ ون دے وہ تقریبا ً دو سے تین ماہ کے درمیان دوبارہ خ ون دے ۔کسی بھی ضرورت مند مریض کو خ ون عطیہ کرنا صدقہ جاریہ میں شمار ہوتا ہے، جبکہ کسی دوسرے انسان کی مدد سے قدرت الٰہی کی جانب سے قلبی سکون و راحت حاصل ہوتی ہے اور انسان ہر قسم کی آفات اور محرومیوں سے نجات پاتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *