دو ماہ تک روزانہ دو مالٹے کھانا آپ کے جسم کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

وٹامن سی کا اہم ذریعے مالٹے کی دنیا بھر میں سیکڑوں مختلف اقسام کاشت کی جاتی ہیں جن میں کینو اور موسمی سب سے زیادہ مشہور ہیں۔

ان کو ثابت اور ان کا جوس نکال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔مالٹے میں وٹامن سی ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی مقدار میں فائبر اور فولک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔ یہ سٹرس فروٹ فیملی میں سے ایک پھل ہے جو موسم سرما میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے، ہر کسی کا من پسند، ذائقے میں کچھ کھٹا کچھ میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔یہ پھل وٹامنز اور منرلز حاصل کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔کینو میں وٹامن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، ایک بڑے سائز کے کینو میں روزانہ کی بنیاد پر وٹامن سی کی مطلوب مقدار موجود ہوتی ہے۔وٹامن کی ایک قسم تھیامن جسے وٹامن بی 1 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے

کینو میں اس کی مناسب مقدار ہوتی ہے ۔وٹامن B9 یعنی فولک ایسڈ بھی کینو میں پایا جاتا ہے جو صحت کے لیے بہترین ہے۔پوٹاشیم پائے جانے کے سبب ہائی بلڈ پیشر کے مریض کینو کا استعمال اگر روزانہ کریں تو بلڈ پریشر کو متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے۔مالٹے میں سٹرک ایسڈ کی موجودگی کے باعث گردوں میں موجود پتھری کو آسانی سے زائل ہونے میں مدد ملتی ہے ۔مالٹے میں کئی بائیو ایکٹو اجزاء کی موجودگی کے سبب اس کا استعمال انسانی صحت پر براہ راست مثبت اثر دکھاتاہے، اینٹی آکسیڈنٹ کے دو بنیادی اور اہم جز فینولک اور کیروٹینائیدز بھی کینو میں پائے جاتے ہیں۔فینولک کی موجودگی کینو کو مزید اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل بناتی ہے ، فینولک میں ہیسپریڈین سٹرس پائے جانے سے اس کا استعمال موسمی وائرل سے بچاتا ہے جبکہ ایک اہم طبی جز اینتھو سیانن سے خون بننے میں مدد ملتی ہے ۔سٹرس یعنی کھٹے پھلوں میں کیروٹینائید مرکب پایا جاتا ہے ، کینو میں بھی اس کی بھاری مقدار پائی جاتی ہےجس کے سبب اینٹی آکسیڈنٹ اجزا کو وٹامن اے میں بدلنے میں مدد ملتی ہے۔کینو کا استعمال کن بیماریوں سے بچاتا ہے ؟دل کی صحت خراب ہونے کے سبب دنیا بھر میںوقت سے پہلے اموات ایک بڑا مسئلہ ہے ،

کینو کے استعمال سے دل صحت مند اور توانا ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق کینو کے جوس یا اس کے کھانے سے دل کی صحت پر براہ راست مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ یہ بند شیریانوں میں جمی چکنائی کو زائل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ فائبر کی موجودگی کے باعث بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر متوازن رہتی ہے ۔گردوں میں پتھری ہونے کی شکایت میں مریض کو پوٹاشیم، سائیٹریٹ اور سٹرک ایسڈ کا استعمال کرنے کو کہا جاتا ہے، اس کا استعمال گردوں میں پتھری بننے کے عمل کو روکتا ہے۔اگر خون کی کمی کا شکار ہیں تو مالٹے اور کینو کے استعمال سے خون کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے، آئرن سے بھر پور غذاؤں کے استعمال کے ساتھ اس پھل کا استعمال کیا جائے تو ہیموگلوبن کے بننے کے عمل میں تیزی آتی ہے ۔ماہرین غذائیت کے مطابق کینو یا مالٹے کا جوس پینے کے بجائے اس پھل کو مکمل کھانا چاہیے کیوں کہ مکمل پھل کھانے میں زیادہ فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اس میں فائبر اور گودے سے گردوں کی صفائی ہوتی ہے اور ہاضمہ بھی درست رہتا ہے جبکہ آنتوں کی صفائی بھی ہوتی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *