شوگرکا سالوں پرانا علاج سعودی ڈاکٹرکا بتایا ہوا نسخہ جو 100میں سے 99 لوگ نہیں جانتے

سن 1951 کے دوران شام کے شہر حمص میں پیدا ہونے ڈاکٹر حسان شمسی پاشا 1988 سے جدہ شہر کے

اسپتال (مستشفى الملك فهد للقوات المسلحة) میں دل کے امراض کے اسپیشلسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی کارکردگی، لیکچرز، لکھی ہوئی کتابوں اور حاصل ہونے والے انعامات اور اعزازات کی فہرست بہت لمبی ہےجاری ہے۔مگر اختصارکے ساتھ ویکیپییڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ نے طب نبوی، دل کے امراض اور عام صحت کے مسائل پر پر بھی خوب تحقیق کی ہے اور بیسیوں کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کی ہی ایک کتاب (زيت الزيتون بين الطب والقرآن) اپنے انداز کی ایک اچھوتی کتاب ہے۔ زیر نظر مضمون ان کے دیئے ہوئے ایک درس کا خلاصہ ہے جو آپ نے ایک کانفرنس میں پیش کیا: عوام الناس کے استفادہ کیلئے اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے:

جب مجھ پر یہ بھید کھلا کہ مجھے شوگر ہو گئی ہے اور اس کا لیول 500 تک پہنچا ہوا ہے تو میرے پیروں کے تلے سے زمین ہی نکل گئی۔ لوگوں کے مشورے ایسے آنے لگے گویا ہر دوسرا شخص حکیم ہو اور اس دوائی کا خود تجربہ کر چکا ہو۔ بس مختصراً یوں سمجھئے کہ ایک مہینے کی سخت جدوجہد اور ورزشی و محنت اور مشقت اٹھا کر شوگر نہار منہ 200 اور ناشتے کے بعد 300 تک پہنچ سکی۔ دیسی دوائیوں کا بھی کوئی حیلہ نا چھوڑا مگر کوئی خاص افاقہ نا ہو سکا۔ اس مرحلے پر میں نے طے کیا کہ اپنے آپ کو ہلکان کرنے والی بھاگ دوڑ چھوڑ کر اپنا علاج خود شروع کرتا ہوں۔ اور میں نے یہ تین ممکنہ طریقے سوچے:نمبر1: سخت ورزش اور کھانے پینے میں انتہائی پرہیز۔ نمبر 2: زیتون کے تیل کا استعمال۔ نمبر 3: کسی باقاعدہ اسپتال سے علاج کا شروع کروانا۔ہر طرح کے علاج کا فائدہ دیکھنے کیلئے میں نے ایک ایک ہفتہ ان تینوں پروگرام پر عمل کرنا شروع کیا تو نتائج کچھ یوں نکلے:پہلے ہفتے میں پروگرام نمبر 1 پر عمل کرنا: سخت اور کھٹن ورزش اور انتہائی پرہیزی کھانا پینا۔ (اس عمل میں پورا ہفتہ گزر گیا مگر افاقہ اتنا معمولی تھا جس کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے ہفتے میں پروگرام نمبر 2 پر عمل کرنا اور زیتون کے تیل کا استعمال کرنا۔ اس ہفتے بہت ہی حیرت ناک تبدیلیاں پیش آئیں۔ ہفتے کے ابتدائی تین دنوں میں ہی شوگر ناشتہ کر چکنے کے بعد 180 درجے پر اور نہار منہ 100 درجے پر جا پہنچی۔ جبکہ ہفتے کے باقی دن کے عمل کے بعد شوگر کا لیول ناشتہ کر چکنے کے بعد 93 درجے تھا۔ (ناشتہ کر چکنے کے بعد، نہار منہ نہیں)۔اس ہفتے بھر کے علاج کے بعد، میرے دل میں کئی سوچیں آئیں۔ کیا زیتون کا تیل ایک وقتی علاج ہے، بعد میں کیا ہوگا؟ کوئی بھی مریض اس پر عمل جاری رکھے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *