”ماں کے پیٹ میں ، بچے کے حرکت نہ کرنے کی وجوہات اور آسان علاج“

بچے دن کے مخصو ص اوقات میں ہی حرکت کرتے ہیں۔ تجربات سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے۔ جب حاملہ عورت سوتی ہے

تو بچہ حرکت کرنے لگ جاتا ہے۔ اور جب عورت جاگتی ہے تو بچہ سو جاتاہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر بچہ ماں کے پیٹ میں بیس سے چالیس منٹ تک سوتا ہے۔ یا پھر کبھی کبھار یہ دورانیہ نوے منٹ تک کا بھی ہوسکتا ہے۔ جب بچہ سوتا ہے تو وہ حرکت نہیں کرتا۔ اور جب آپ بیٹھی ہوتی ہیں۔ یاچل رہی ہوتی ہیں۔ یا کھڑی ہوتی ہیں۔

تو آپ اتنی آسانی سے بچے کے منہ میں نوٹ نہیں کرسکتیں ۔ لیکن جب آپ سونے کے لیے لیٹتی ہیں اور بچے کی طر ف متوجہ ہوتی ہیں۔ تو آپ کو حرکات کا احساس ہوتا ہے جیسے ہی ماہواری بڑھتی ہے تو بچے کی حرکات تبد یل ہوتی رہتی ہیں۔ اور بچے تھرڈ ٹرائل میں کثرت سے حرکات کرنے لگتے ہیں۔ اور نویں مہینے میں بچے کو جگہ کم ہونے کے باعث ، بچے کی حرکا ت میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ کسی بچے کی حرکا ت کی تعداد مقرر نہیں ہوتی۔ ہر بچے کی حرکات علیحد ہ ہوتی ہے۔ اگر چوبیس تک آپ کو بچے کو حرکات محسو س نہیں ہورہیں۔ یا پہلے سے کم محسوس ہورہی ہیں۔ تو آپ کو لازمی اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر آپ محسو س کرتی ہیں کہ بچے کی حرکت کم ہے تو آپ ان چیزوں اور ٹرکس پر عمل کرکے بچے کی حرکات میں بہتری لاسکتے ہیں۔ حاملہ عورت کو بھوک لگی ہو تو ایسی صورت میں بچے کی خوراک نہیں مل رہی ہوتی۔ ایسے میں بچے کی حرکات رک جاتی ہیں۔

ایسی حاملہ عورت کو دودھ ، دہی اور میوہ جات کھانے چاہیے۔ اور تازہ پھلوں اور فریش جوسز کا استعمال کرنا چاہیے۔ ان میں موجود قدرتی شوگر سے ماں اور بچے کی حرکات بوسٹ ہوتی ہے۔ اور بچے ہلنے لگتا ہے۔ دن کے وقت عورت چست رہتی ہے۔ کام کاج کرتی ہے یا چلتی پھرتی رہتی ہے۔ تو بچے کو جھٹکے کا احساس ہوتا ہے اور بچہ سو یا رہتا ہے اور اگر سونے کے اوقات نہ ہوں اور آپ جو کام کررہے ہوں اسکو روک دیں اور لیٹ جائیں اگر کچھ دیر پیٹ کے بل سونے سے رزلٹ نہ ملے تو ایک طرف سوجائیں۔ بچہ حرکات کرنے لگے گا۔ بائیس دن کا بچہ روشنی یا انرجی پر منحصر کرنے لگتا ہے۔

لہذا اگر آپ اپنے پیٹ پر روشنی ڈالیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بچہ حرکات کرنے لگا ہے۔ اس کے علاوہ بائیس ہفتوں کے بعد بچہ آواز پر بھی اثرکرنے لگتا ہے آپ اپنے بچے سے باتیں کریں۔ بچے کو چست رکھنے کا یہ ایک دلچسپ طریقہ ہے حمل کے دوسرے ٹرائل میں زیادہ کھانا بھی بچے کی حرکات کو کم کرتا ہے۔ کیونکہ پیٹ بھرے ہونے کی وجہ سے بچے کو حرکات کرنے میں کم جگہ ملتی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کھانا پینا بالکل بند کر دیں۔ بلکہ تھوڑا تھوڑا کھائیں اور پیٹ بھر نہ کھائیں ۔ یہ سب فارمولے آپ کو بچے چست اور حرکا ت کرنے میں مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ فارمولے کامیا ب نہ ہوں تو پریشان کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ سب بچے مختلف ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے بچے کی حرکات سے پریشان ہیں تو اپنے قریبی ڈاکٹر سے ضرور رابطہ کریں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *