ن ش ہ چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن چھوٹ نہیں رہا

کسی چیز کو چھوڑا کب جاسکتا ہے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے چیز کو چھوڑنا ہوتا ہے ہم اس کے بارے میں اتنا ہی تذکرہ کرتے ہیں۔

جب کسی چیز کا تذ کرہ کیاجاتا ہے تو آپ اس چیز کویاد کررہےہو۔ تو جب اس کو یاد کروں گے تو وہ آپ سے کبھی دور جائے گی۔ کوئی بھی نشہ ہے۔ اس کو چھوڑنے کا بہترین علاج یہ ہے کہ اس کو بیان کرنا بند کردو۔ اس کو بولنا بند کردو۔ اب جو آپ لینا چاہتے ہو۔ کیونکہ پیارے پیغمبر نے کیا ارشاد فرمایا : تقدیر کو اگر کوئی چیز بدل سکتی ہے۔ وہ کیا ہے؟ آج کی سائنس کی بتاتی ہے ۔ا س کائنا ت کی سب سے زیادہ طاقت ور چیز آواز ہے۔ وہ لوگ جو چیز چھوڑنا چاہتےہیں۔ اسے اپنی زندگی میں ڈسکس بھی نہ کرے ۔ بلکہ وہ جو چیز لینا چاہتا ہے۔ جیسا بننا چاہتا ہے۔ جیسا کرنا چاہتا ہے۔ اس کو بولنا شروع کردے۔ کتنے افسوس کی بات ہے؟ ہر شخص تندرستی لینا چاہتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کےپاس جا کر کیا کہتا ہے؟میری کمر میں دس سال سے درد ہے، میرے موڑھوں میں دس سال سے درد ہے، میری ٹانگوں میں سولہ سال سے درد ہے ، میرا جگر نوسال سے خراب ہے ، میرے پیٹ کو خراب ہوئے انیس سال ہوگئے ہیں۔ اب لینا کیا تھا؟ تو جس چیز کو بولوگے ۔ وہ اتنی بڑی ہوتی جائےگی۔

اگرآپ صرف ایک بات کو سمجھ لو۔ جو بیماری ہے اس کو ہمیشہ ماضی میں بولو۔ یہ کہو مجھے بیماری تھی۔ میرے جوڑوں میں درد تھا۔ میرے گھٹنوں میں درد تھا۔ میرا جگرخراب تھا۔ جب آپ اس کو ماضی میں کہو گے وہ کب تھا؟ ماضی میں۔ پورے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا ۔ کہ اللہ فرمائےگا؟ یا اللہ فرماتاتھا؟ ہمیشہ کیا آیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کو موجود زمانے میں بولتے ہیں۔ توآپ اس کو اپنے مائنڈ میں بھی کال کررہے ہو۔ کہیں نہیں آپ نے سنا۔ کہ جناب پیغمبر ﷺ کی جو دعا تھی ۔ اس میں ” گا” آیا ہو۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں آج تک دعا مانگنی نہیں ہے۔اللہ کے نبی پا نے فرمایا: دعا ایسے مانگو جیسے تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو۔ او ر جیسے تم اپنے ماں باپ سے مانگتے ہو۔ اس شدت سے اپنے رب سے مانگو کیونکہ تمہار ا ، تمہاری ماں سے کتنے گنا زیادہ محبت کرتا ہے؟ سترگنا۔ جو چھوڑنا چاہتا ہے ۔ وہ آج ان چیزوں کو بیان کرے۔ جن کو لینا چاہتے ہو۔ آ پ جو چیز بولتے ہو۔ وہ پلٹ کر آپ کےدامن میں آتی ہے۔ نیوٹن کا تیسرا قانون ہے ۔ ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔ ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے۔ ایکشن اور ری ایکشن سمت میں مخالف اور فورس میں برابرہوتے ہیں ۔

اگر آپ اسی چیز کو بار بار بولتے جاؤ گے ۔ جس کو چھوڑنا ہے وہ زندگی سے کبھی جانے والی نہیں ہے۔ آج سے تہیہ کرلو کہ میں نے اس کا نام ہی نہیں لینا۔ اگر کوئی آپ کو نظر انداز کرے۔ جس کو اگنو ر کرنا کہتے ہیں۔ آپ اس کو کیا کرو گے؟ جب آپ اس چیز کو اگنور کرنا شروع کروگے ۔ وہ چیز بھی آپ کو اگنور کرنا شروع کردے گی۔اور اس کی مثا ل دیتے ہیں ۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو بندہ کہتا ہے۔ ” اے اللہ! میں جنت الفردوس کا سوال کرتا ہوں”۔ جنت آگے سے کیا کہتی ہے؟ اے اللہ ! جیسا یہ میرا سوال کرتا ہے۔ ویسے میں اس بندے کا سوال کرتی ہوں۔ اور جب بندہ کہتا ہے اے اللہ ! میں اس سے جہنم سے پنا ہ مانگتا ہوں۔ تو جہنم کہتی ہے جیسے یہ مجھ پنا ہ مانگتا ہے۔ویسے میں بھی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔بتا ؤ! کیا جو نشہ ہے وہ جہنم سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کاتذکرہ کرنا چھوڑ دو۔ ااور اس سے پناہ مانگو۔ جب آپ اس سے پناہ مانگو گے ۔ وہ نشہ آپ سے کیا مانگے گا؟ وہ آپ سے بھی پناہ مانگے گا۔اس کے بعد کوئی بھی نشہ ہے۔ وہ عادت ہے۔ عادت چھوڑنا ، دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔ نبی پاک جب دنیا میں آئے تو انہوں نے مشرکین مکہ کی عادتوں کو بدلہ کہ نہیں بدلہ ۔ اسلام وہ بہترین ضابطہ حیات ہے۔ جو آپ کی زندگی کے ہر غم کو دور کرنے والا ہے۔ ۔ پیارے پیغبر جنا ب محمد نے فرمایاکہ: اس کالے دانے میں م و ت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔یہ کلونجی اور میتھی دانہ کا پانی صبح ، دوپہر اور شام کو بھی پیو۔ بلکہ اپنی زندگی کی عادت بنا لو۔ کہ میں نے جب پانی پینا ہے کلونجی او رمیتھی دانہ کا۔ دوسر ے نمبر پر جو بہترین دوائی ہے۔ وہ ہے ادرک، لہسن، انار دانہ ، پودینہ ۔ نشہ والے کو کیا ہوتا ہے ۔ جسم میں درد ہوتا ہے۔ درودں کی سب سے بہترین دوائی ادرک ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *