وزن بڑھانا چاہتے ہیں تو سپلیمنٹس چھوڑیئے، اب سے ان 5 غذاؤں کا استعمال گھر میں کریں اور پائیں صحت مند جسم وہ بھی چند ہفتوں میں

کچھ لوگوں کا وزن بلکل بھی نہیں بڑھتا ہے وہ جتنا چاہے محنت کرلیں، زیادہ سے زیادہ کھانا کھائیں،

ہر وقت کھا لیں یا سپلیمنٹس پر پیسہ خرچ کریں ان کا وزن نہیں بڑھتا۔ اور ایسے لوگ خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں جبکہ وزن نہ بڑھنا بھی آپ کے جسم میں کئی پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔

امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق وزن کو بڑھانے کے لئے ہمارے جسم میں وائٹ ڈپازٹ ٹشو ہوتے ہیں جو چربی سے مل کر بنے ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں میں یہ متحرک نہیں ہوتے یا کسی بیماری کی وجہ سے ان کی صلاحیثیت ختم ہو جائے تو انسان کا وزن نہیں بڑھتا، اور ایسے افراد کو اپنی صحت کا سب سے زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر آپ بھی وزن بڑھانا چاہتے ہیں تو ان 5 غذاؤں کا استعمال کریں اور سپلیمنٹس کی چھٹی کریں تاکہ آپ کا پیسہ بھی بچے اور صحت بھی بڑھے۔

کیلے میں آئرن، پوٹاشیئم، اینٹی آکسائیڈنٹ فینولیکس اور میگنیشیئم پایا جاتا ہے جو کہ آپ کے جسم کو طاقت دیتا ہے اور بلکل نہ بڑھنے والے وزن کو بڑھاتا ہے۔ لیکن اس کے لئے آپ کیلے کو دن میں کسی بھی وقت کھائیں اور ساتھ ہی اس کا شیک بھی پیئیں۔چاول زیادہ کھانے سے بھی وزن جلدی بڑھتا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں اس لئے سفید چاول زیادہ کھائیں۔آلو میں سٹارچ اور میگنیشیئم پایا جاتا ہے جو کہ وزن کو جلدی بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ اس لئے ہر کھانے اور سلاد میں بھی آلوؤں کا استعمال کریں اس کے علاوہ آلو کا حلوہ بھی کھائیں۔

تلا ہوا انڈہ کھانے سے وزن جلدی بڑھتا ہے اور آپ کے جسم کو طاقت بھی زیادہ ملتی ہے اس لئے دن میں ایک سے زیادہ انڈے بھی کھائیں لیکن تلے ہوئے استعمال کریں۔کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، میگنیشم، وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سمیت سیروٹونین پائے جاتے ہیں۔ روزانہ 2 سے 3 کھجور کھانے سے بھی آپ کا وزن جلدی بڑھ سکتا ہے۔

کیلے اور کھجور کا جوس وزن بڑھانے کے لئے سب سے خاص سپلیمنٹ سمجھا جاتا ہے اس لئے روزانہ دن میں دو گلاس کیلے کھجور کا جوس لازمی پیئیں۔ایک گلاس دودھ کو بلینڈر میں ڈالیں، ساتھ ہی اس میں ایک کیلا اور دو کھجور ڈالیں اور بلینڈ کرلیں۔ لیجیئے تیار ہے آپ کا وزن بڑھانے کا گھریلو سپلیمنٹ جو آپ کا وزن جلدی بڑھا سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *